ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی سمیع اللہ کی بجلی چوری پکڑی گئی

اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم کانفرنس کی مشترکہ پریس کانفرنس، پاکستان مخالف بیانیے اور پرتشدد احتجاج کی مذمت

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پریس کلب اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور مسلم کانفرنس کی قیادت نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان مخالف بیانیے، ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی اور پرتشدد احتجاجی سرگرمیوں کی شدید مذمت کی، پریس کانفرنس سے صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر، صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان، وزیر حکومت آزاد کشمیر نبیلہ ایوب اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پاکستان مخالف بیانیہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ 99.9 فیصد کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور نظریہ الحاقِ پاکستان پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقوق تحریک کے آغاز میں تمام سیاسی جماعتوں نے عوامی مسائل کے حل کے لیے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، تاہم بعد ازاں بعض عناصر نے تحریک کو منفی سمت دینے کی کوشش کی۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں اظہارِ رائے ہر شہری کا حق ہے لیکن تشدد، نفرت اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے، انہوں نے ہسپتالوں، سڑکوں اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ راولاکوٹ واقعے کے بعد حالات کو دانستہ طور پر خراب کرنے کی کوشش کی گئی، انہوں نے بعض افراد کی جانب سے افواج پاکستان کے خلاف بیانات کو دشمن کا ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی افواج میں بغاوت پر اکسانا ایک سنگین عمل ہے۔

اس موقع پر وزیر حکومت آزاد کشمیر نبیلہ ایوب نے کہا کہ پاکستان اور افواجِ پاکستان کا کردار آزاد کشمیر کے امن و استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے اور بجلی و آٹے پر دی جانے والی سبسڈی بھی پاکستان کی خصوصی معاونت کا نتیجہ ہے۔

نبیلہ ایوب نے کہا کہ عوامی حقوق کے لیے جدوجہد ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم مطالبات کی آڑ میں انتشار، فساد اور تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر تحریک کی آڑ میں پاکستان مخالف ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں، جبکہ ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے، انہوں نے تحریک کے قائدین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں کیونکہ مسائل کے حل کا واحد جمہوری راستہ بات چیت ہے۔

صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے بھی پرتشدد کارروائیوں اور ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی شدید مذمت کی، انہوں نے کہا کہ مطالبات منظور ہونے کے باوجود تحریک کو آئینی اور سیاسی تنازعے کی طرف موڑ دیا گیا، ان کے مطابق چکسواری، پلندری اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے مالیت کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ احتجاجی واقعات سے متعلق 170 سے زائد مقدمات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ پرامن جدوجہد کشمیری سیاست کی روایت رہی ہے اور سیاسی اختلافات کے باوجود ریاستی اداروں اور عوامی املاک پر حملے کسی صورت قابل قبول نہیں، انہوں نے کہا کہ 99.99 فیصد کشمیری عوام پاکستان اور نظریہ الحاقِ پاکستان پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان مخالف بیانیہ کشمیری عوام کی نمائندگی نہیں کرتا۔

پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ (ن) اور مسلم کانفرنس کی قیادت نے پاکستان مخالف عناصر کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے ریاستی رٹ، قانون کی حکمرانی اور پاکستان و کشمیر کے تاریخی و نظریاتی رشتے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا، اس موقع پر شاہ غلام قادر نے بعض احتجاجی واقعات، نعروں اور پاکستان مخالف بیانات سے متعلق ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔