اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے چین کے شہر شی آن میں منعقدہ نیشنل فیئر کمپٹیشن کانفرنس آف چائنا میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک میں مسابقتی نظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری کے اقدامات کو عالمی ماہرین اور مسابقتی اداروں کے سربراہان کے سامنے پیش کیا۔
چین کی اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن کے زیرِ اہتمام 7 اور 8 ستمبر کو منعقدہ کانفرنس میں چین، برازیل، فرانس، جارجیا، جنوبی کوریا، روس، سنگاپور اور دیگر ممالک کے مسابقتی اداروں کے سربراہان اور سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرید احمد تارڑ نے کہا کہ مضبوط مسابقتی ادارے سرمایہ کاری، جدت، پیداواری صلاحیت اور پائیدار معاشی ترقی کیلئے اہم ہیں، جبکہ مسابقتی منڈیوں کے فوائد بالآخر صارفین تک پہنچتے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ سی سی پی روایتی انفورسمنٹ سے آگے بڑھتے ہوئے شواہد اور مارکیٹ انٹیلی جنس پر مبنی فعال انفورسمنٹ کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی سی پی کے مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ نے مختلف شعبوں میں 225 سے زائد ممکنہ مسابقتی کیسز کی نشاندہی کی ہے ، کمیشن کارٹلز، غلبے کے ناجائز استعمال، گمراہ کن مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹس میں ابھرتے مسابقتی مسائل پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
چیئرمین سی سی پی نے کہا کہ مسابقتی انفورسمنٹ اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری ایک دوسرے کیلئے تقویت کا باعث ہیں ، گزشتہ دو سال کے دوران سی سی پی نے 121 مرجر کلیئرنس جاری کیں، جن کے ذریعے تقریباً انتیس ارب پینسٹھ کروڑروپے کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت فراہم ہوئی، جبکہ جائز کاروباری انتظامات کیلئے 83 استثنیٰ بھی دیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی پی مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، الگورتھمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پیدا ہونے والے نئے مسابقتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اپنی صلاحیت بڑھا رہا ہے ، 2026-27ء کی ترجیحات میں ڈیجیٹل مارکیٹس کمپیٹیشن فریم ورک اور ای کامرس، فن ٹیک اور ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پر مارکیٹ اسٹڈیز شامل ہیں۔
دورے کے دوران فرید احمد تارڑ نے اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن فار مارکیٹ ریگولیشن کے نائب وزیر شو وئی سے دوطرفہ ملاقات بھی کی ، ملاقات میں موجودہ اینٹی مونوپلی تعاون کے ایم او یو پر عملدرآمد، کارٹل کی نشاندہی، مرجر کنٹرول، ڈیجیٹل مارکیٹس، مارکیٹ انٹیلی جنس، اقتصادی تجزیے، ایڈووکیسی، افسران کے تبادلوں اور استعداد کار میں اضافے کیلئے عملی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سی سی پی نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان مضبوط تعاون پاکستان اور چین کے مابین تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کیلئے زیادہ مسابقتی اور قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔

