اسلام آباد( احسان بخاری /سپیشل رپورٹر ) وزارت خارجہ میںاوپو سٹائل دستاویزات کاغذات کی تصدیق میں آڈٹ کے دوران اربوں روپے کی کرپشن کا معاملہ ایف آئی اے نے چھاپہ مار کر درجنوں ایجنٹس کوریئر کمپنی کے ملازمین اور ایک انسپکٹر کو حراست میں لے کر تمام دفتر سیل کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں .
ذرائع کے مطابق ڈی جی آڈٹ کی جانب سے وزارت خارجہ میں 12 ارب روپے کے گھپلوں کے انکشاف کے بعد ایف آئی اے نے اسلام آباد میں چھاپے مار کر مختلف کورئیرز کمپنی جن میں ای سی ایس ECSفیئر لائن کمپنی لیپرڈ کوریئر کاشی انٹرنیشنل ایکسپریس ہالی ڈے اے ایس کنسلٹنٹ جی ایم کنسلٹنٹ اے بی کنسلٹنٹ یہ اٹلی سمیت دیگر ممالک کے ویزے بھی لگوانے کا کاروبار کرتے تھے .

صوفی کنسلٹنٹ سمیت ایجنٹ مافیا کا وزارت خارجہ میں افسران کے ساتھ رابطے تھے مذکورہ بالا ایجنٹ مافیا اسناد کی تصدیق سمیت دیگر کاغذات کی وزارت خارجہ سے تصدیق کے لیے 30 ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک لیتے تھے ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ایف آئی اے نے چھاپے مار کر 25 ملزمان کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تحقیقات کے دوران دیگر اہم ملزمان تک پہنچنے کے لیے تفتیش جاری ہے .

ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ نے کاغذات کی تصدیق کے لیے ای سی ایس کوریئر کمپنی کو ٹھیکہ دیا جو سعید عالم کی کمپنی ہے دوسری جانب ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ میں ہونے والا آڈٹ رپورٹ میں جو انکشاف پر ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور یاد رہے کہ وزارت خارجہ نے اسناد اور دیگر کاغذات کی تصدیق کے لیے مختلف شہروں میں اپنے دفاتر بھی قائم کر رکھے تھے .

وزارت خارجہ میں ہونے والے آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب روپے کے ایک مبینہ گھپلوں کی تحقیقات کرنے والے ڈاکٹر احمد علی سروہی نے یہ آڈٹ کیا تھا جس میں وزارت خارجہ کے بڑے بڑے افسران کے نام بھی آر ہے تھے جس کے بعد وزیرخارجہ کے احکامات کی روشنی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی جبکہ دوسری جانب ایف آئی اے نے چھاپا مار کر 25 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر تمام دفاتر سیل کردیئے ہیں مذکورہ یاد رہے کہ وزارت خارجہ میں اوپو سٹائل دستاویزات کی تصدیق کے معاملے میں بڑی مالی بے ضابطگیاں سامنے آرہی تھی جس پر ایف آئی اے نے یہ تحقیقات شروع کی ہیں

