حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات جاری، فریقین نے ایک دوسرے کے سامنے مطالبات رکھ دیے

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں مذاکرات جاری ہیں، حکومت اور اپوزیشن نے ایک دوسرے کے سامنے اپنے مطالبات رکھ دیئے ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر جبکہ پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر، شیری رحمان اورحکومت کی جانب سے محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، طلال چودھری، امیر مقام اور طارق فضل چوہدری مذاکرات میں شریک ہیں۔

وفاقی وزیر محسن نقوی نے مذاکراتی وفود کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی صورتحال پر بریفنگ دی ، ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کردیا، بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی بات کی گئی، بانی کی بہنوں اورگرفتار ارکانِ اسمبلی کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ، حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات میں نمازجمعہ کیلئے 15 منٹ کا وقفہ کردیا گیا ہے، اسپیکر سردار ایاز صادق ،ن لیگ اور پی ٹی آئی کی قیادت نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے پارلیمنٹ کی مسجد پہنچ گئی۔

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، میرا دفتر مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے کھلا ہے۔

اسپیکر سردار ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں، عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ واحد فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔

مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کی سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات بھی ہوئی جس میں ملک کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں حکومت اور اپوزیشن کمیٹیوں کے وفود کی ملاقات کے حوالے سے بھی امور پر تبادلہ خیال ہوا، ملاقات میں تحریک انصاف سے مذاکرات کی حکمت عملی پر بات چیت ہوئی۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کے دوران کی گئی باتیں راز ہیں، بڑے بڑے بحرانوں کا حل مذاکرات سے نکل آتا ہے ، اپوزیشن لیڈر سینیٹ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ بحران حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت نیک نیتی سے ان مسائل کا حل کرے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنرراج اورایمرجنسی کسی مسئلے کا حل نہیں، ہم نے ہمیشہ ہرجگہ انصاف مانگا ہے، مذاکرات کامیاب ہونے چاہئیں، یہ صرف فوٹوسیشن یا آنےجانے تک محدود نہیں ہونےچاہئیں، مذاکرات کی کامیابی قوم کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل انہوں نےمیڈیا کو بتایا تھا کہ آج وہ پورے خلوص سے بغیر کوئی پیشگی شرط رکھے حکومت سے مذاکرات کرنے جارہے ہیں، جس دوران حکومت کو سننے کے بعد اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھیں گے ، ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اگر انصاف ہمارے لیے چھٹی پر نہیں ہے تو ہر مسئلہ کا حل موجود ہے۔

وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری کا کہنا ہے کہ بات چیت میں ہمیں کبھی جھجک ہوئی نہ انا آڑے آئی،ن لیگ اورپیپلزپارٹی نے ہمیشہ مسائل مذاکرات سےحل کیے ،امید ہے اپوزیشن بات چیت کا موقع نہیں گنوائے گی ، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایسی خواہش کے تابع نہ ہوں جس سے مسائل بڑھیں ، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عدالتوں کے معاملات عدالتوں کے ذریعے ہی حل ہونگے۔سیاسی معاملات ٹیبل پربیٹھ کرحل ہوسکتے ہیں ،بیٹھ کرجوبھی بات کرنا چاہیں وہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ ہم سیاسی اصولوں اورقانون کے مطابق جواب دیں گے ، یہ طریقہ نہیں کہ وزیراعظم کوخط لکھ سکتے ہیں مگر مل نہیں سکتے،اس قسم کی سوچ سیاسی رواداری کا نقصان کرتی ہے ، وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ مذاکرات کی دعوت وزیراعظم نے خود قائد حزب اختلاف کو دی،حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آج آرہی ہے تو اچھی امید کے ساتھ بیٹھیں گے،بات چیت سے مسائل کا حل ملک اور سیاسی صورتحال کے لیے بہتر ہے،مذاکرات میں کئی موضوعات زیر بحث آئیں گے،ممکنہ حل حکومت کے پاس ہوا تو پیش کریں گے۔

طارق فضل چودھری نے مشورہ دیا کہ اپوزیشن کو سیاسی رویہ اختیار کرنا پڑے گا،اسلام آباد پر یلغار اور چڑھائی سے اجتناب کرنا ہوگا،خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کو قابو کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

قبل ازیں اس سلسلہ میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوان صدر کے اعلامیے کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ، ملاقات میں ملک میں امن و استحکام کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور پیپلزپارٹی کا مشترکہ وفد پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا، جس میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی اور اپنے سیاسی مطالبات کے حق میں اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کررکھا ہے، مارچ ابتدا میں 27 ستمبر کو ہونا تھا تاہم پی ٹی آئی نے اسے مؤخر کرکے 4 اکتوبر 2026 کو کرنے کا اعلان کیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پارٹی کے دیگر سیاسی و آئینی مطالبات کے لیے دباؤ ڈالنا ہے، جبکہ پارٹی قیادت نے مارچ کو پرامن رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد کی جانب مارچ کے انتظامات تشویش کا باعث ہیں، حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی بڑھانے اور اہم راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورتحال بھی اس سیاسی کشیدگی کا اہم پس منظر ہے۔ حالیہ عرصے میں صوبے میں دہشتگردی کے واقعات اور پاک افغان سرحد سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان انسداد دہشتگردی کی حکمت عملی اور وسائل کے استعمال پر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔

لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان کا ذکر بھی سامنے آیا، حکومتی نمائندوں نے کہا ہے کہ آئینی طریقہ کار کے تحت اس آپشن پر غور کیا جاسکتا ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس امکان کی مخالفت کی ہے۔