Custam Pakistan Capitalnewspoint.com

اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر 24 کنٹینرز روکنے کا انکشاف، سرکاری خزانے پر ڈالرز کا اضافی بوجھ

اسلام آباد (احسان بخاری) اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر ایک کسٹم افسر کا حکم نہ ماننے پر جان بوجھ کر 24 کنٹینرز روکے رکھے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر صرف 37 لاکھ روپے کا ڈیوٹی فرق تھا، جبکہ دوسری جانب کراچی سے کلیئر ہونے والے 8 کنٹینرز جنہیں کچھہ اسٹاپ پر کسٹم انفورسمنٹ نے قبضے میں لے کر تحقیقات شروع کیں، ان میں دو کروڑ روپے کا فرق نکلا جو کم ڈیوٹی اور ٹیکس ادا کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر ایک ایجنٹ نے متعلقہ کسٹم افسر کی بات نہ مانی تو اس کے 24 کنٹینرز کو بلا جواز روک لیا گیا ، روکے جانے کی وجہ سے ایجنٹ کو شپنگ کمپنی کو 8 سے 12 ہزار ڈالر ڈیٹینشن چارجز کی مد میں ادا کرنا پڑے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ڈالر بعد ازاں حکومتی خزانے سے شپنگ کمپنی کو دلوائے گئے، جو سرکاری خزانے پر اضافی بوجھ بنا۔

دوسری طرف کراچی پورٹ سے کلیئر ہو کر آنے والے 8 کنٹینرز کو کچھہ اسٹاپ پر کسٹم انفورسمنٹ نے شک کی بنیاد پر قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کیا تو انکشاف ہوا کہ ان کنٹینرز پر دو کروڑ روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکسز کی کمی ہے، ایک کنٹینر پر اوسطاً ایک لاکھ 40 ہزار روپے کا فرق سامنے آیا ، ذرائع نے بتایا کہ اگر اسلام آباد ڈرائی پورٹ پر بروقت کلیئرنس ہو جاتی تو نہ صرف درآمد کنندہ کو ہزاروں ڈالر کا نقصان نہ ہوتا بلکہ سرکاری خزانے پر بھی بوجھ نہ پڑتا ، اس حوالے سے متعلقہ کسٹم حکام سے موقف لینے کی کوشش کی گئی لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔