او جی ڈی سی کا منافع 53 فیصد بڑھ کر 58.5 ارب روپے ہوگیا، تاریخ کا سب سے بڑا پہلی سہ ماہی ڈیویڈنڈ

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران 58.5 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہے ، کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے مالیاتی نتائج کی منظوری دیتے ہوئے فی شیئر 5 روپے (50 فیصد) پہلے عبوری نقد ڈیویڈنڈ کا اعلان کیا، جو کمپنی کی تاریخ میں پہلی سہ ماہی کا سب سے بڑا ڈیویڈنڈ ہے ، گزشتہ سال اسی مدت میں فی شیئر 3.50 روپے ڈیویڈنڈ دیا گیا تھا۔

کمپنی کی خالص فروخت سے آمدن 38 فیصد اضافے کے ساتھ 132.4 ارب روپے ہوگئی، جبکہ فی شیئر آمدن 8.91 روپے سے بڑھ کر 13.60 روپے ہوگئی، بہتر پیداوار اور قیمتوں میں اضافے نے مالی نتائج میں اہم کردار ادا کیا، سہ ماہی کے دوران بلوں کے مقابلے میں وصولیوں کی شرح 100 فیصد رہی، او جی ڈی سی نے ٹیکس، ڈیویڈنڈ، رائلٹی اور لیویز کی مد میں قومی خزانے میں 82 ارب روپے جمع کرائے، جبکہ مقامی تیل و گیس کی پیداوار کے ذریعے درآمدات کا متبادل فراہم کرکے ملک کے لیے 1.32 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بچایا۔

بورڈ کے چیئرمین ظفر مسعود نے مالی نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے تیل، گیس اور ایل پی جی کی پیداوار میں دوہرے ہندسے کا اضافہ، بلوں کی 100 فیصد وصولی اور تاریخ کا سب سے بڑا پہلی سہ ماہی ڈیویڈنڈ حاصل کیا ہے ، ان کے مطابق کمپنی پیداوار برقرار رکھنے اور مستقبل کی ترقی کے لیے کمپریشن، واٹر انجیکشن اور نئی ڈرلنگ سمیت مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گی۔

او جی ڈی سی کی یومیہ قابلِ فروخت پیداوار میں تینوں شعبوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ خام تیل کی پیداوار 13.3 فیصد اضافے سے 35,494 بیرل، قدرتی گیس 14.2 فیصد اضافے سے 732 ملین مکعب فٹ اور ایل پی جی کی پیداوار 10.5 فیصد اضافے سے 696 ٹن یومیہ ہوگئی۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ پیداوار بالترتیب 31,315 بیرل، 641 ملین مکعب فٹ اور 630 ٹن تھی۔

پیداوار میں اضافے کے لیے مارو-3، سونو-10، چک 63-5 اور بوبی-11 سمیت چار نئے کنوؤں کو پیداواری نظام سے منسلک کیا گیا، چار کنوؤں پر الیکٹریکل سبمرسیبل پمپس کی تنصیب سے یومیہ 1,630 بیرل اضافی خام تیل حاصل ہوا، جبکہ پرانے کنوؤں کی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے 26 ورک اوور آپریشنز بھی مکمل کیے گئے۔

تاہم ایس این جی پی ایل اور یو پی ایل کی جانب سے گیس کی جبری بندش کے باعث پیداوار متاثر ہوئی، جس سے یومیہ 1,254 بیرل خام تیل، 94 ملین مکعب فٹ گیس اور پانچ ٹن ایل پی جی کی پیداوار میں کمی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کو 9.7 ارب روپے کی فروخت کا نقصان اٹھانا پڑا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 19.3 ارب روپے تھا ، خام تیل کی اوسط فروخت قیمت 74.90 ڈالر فی بیرل جبکہ گیس کی قیمت 796.08 روپے فی ہزار مکعب فٹ ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال بالترتیب 57.61 ڈالر اور 718.38 روپے تھی۔

تلاش کے شعبے میں کمپنی نے 31 کلومیٹر 2Dلائن اور 213 مربع کلومیٹر 3D سیسمک ڈیٹا حاصل کیا۔ سیکیورٹی مسائل، خراب موسم اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث سیسمک سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ کمپنی نے بٹرسیم این ڈبلیو-1 اور نہیون-1 کنوؤں پر ڈرلنگ شروع کی، جبکہ مجموعی طور پر 17,348 میٹر ڈرلنگ مکمل کی گئی۔ نہیون-1 کنواں پاکستان میں غیر روایتی گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے کمپنی کا پہلا اہم قدم ہے۔

اوچ کمپریشن منصوبے کی تعمیر اور مکینیکل کام مکمل ہوچکے ہیں جبکہ کمیشننگ جاری ہے، جس کے ٹیسٹ دسمبر 2026 تک مکمل کیے جائیں گے، کے پی ڈی-ٹائی کمپریشن منصوبے اور کنر-پساکھی واٹر انجیکشن منصوبے پر بھی کام تیزی سے جاری ہے، جن کی تکمیل مارچ 2027 تک متوقع ہے ، واٹر انجیکشن منصوبے سے تیل کی ریکوری میں 8 سے 10 فیصد اضافے اور فیلڈز کی پیداواری مدت میں سات سے آٹھ سال تک توسیع کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ راجیان ہیوی آئل فیسلٹی اور پرانے اثاثوں کی بحالی کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔

کمپنی ابوظہبی آف شور بلاک-5 میں تلاش اور تکنیکی جائزے جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بو دانا، البطین اور المنہل فیلڈز کی ترقی کے لیے انجینئرنگ ڈیزائن پر کام جاری ہے ، ان منصوبوں سے پہلی پیداوار 2028 میں متوقع ہے ، ریکوڈک منصوبے میں سیکیورٹی صورتحال، سرمایہ کاری، فنانسنگ اور منصوبے کے شیڈول کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے باعث لاگت اور تکمیل کے اوقات میں تبدیلی ممکن ہے۔

او جی ڈی سی اس حوالے سے منصوبے کے آپریٹر، دیگر شراکت داروں اور حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے ، او جی ڈی سی نے واحد بخش-1 کنویں کے جیو تھرمل پانی میں لیتھیم کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (پنسٹیک) کے لیبارٹری تجزیے میں لیتھیم کی مقدار 291 ملی گرام فی لیٹر ریکارڈ کی گئی۔ یہ ابتدائی نتائج ہیں اور ملحقہ آبی ذخائر میں لیتھیم کی موجودگی اور جیو تھرمل وسائل کی تجارتی افادیت کا جائزہ جاری ہے۔

او جی ڈی سی کے بورڈ نے پہلی مرتبہ IFRS S1 اور IFRS S2 کے عالمی معیارات کے مطابق پائیداری سے متعلق مالیاتی انکشافات کی منظوری دی ، کمپنی نے اپنی ESG حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں کے لیے کارکردگی کے اہداف بھی مقرر کیے ہیں اور سپلائی چین کے شراکت داروں کے لیے آگاہی سیشن منعقد کیا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی ٹرانسپیرنسی اِن کارپوریٹ رپورٹنگ (TRAC) اسیسمنٹ 2026 میں او جی ڈی سی نے 104 لسٹڈ کمپنیوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ مجموعی طور پر 92.71 فیصد اسکور حاصل کیا ، کمپنی نے انسدادِ بدعنوانی، ادارہ جاتی شفافیت، مالیاتی رپورٹنگ، صنفی مساوات، معذور افراد کی شمولیت اور عدم امتیاز سمیت مختلف شعبوں میں 100 فیصد اسکور حاصل کیا۔ او جی ڈی سی کے مطابق کمپنی پیداوار برقرار رکھنے، پرانے ذخائر سے زیادہ تیل و گیس حاصل کرنے، نئے ذخائر کی تلاش اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے ملک کی توانائی سلامتی اور قومی معیشت میں اپنا کردار جاری رکھے گی۔