IESCO Capitalnewspoint.com

قائداعظم یونیورسٹی کے قریب 11 ہزار وولٹ تاریں گرنے کا معاملہ، تحقیقات دبانے کا الزام

اسلام آباد (احسان بخاری)قائد اعظم یونیورسٹی میں گیارہ ہزار وولٹیج تاروں کے زمین پر گرنے کا معاملہ ‘ ایکسیئن بھارہ کہو نے تحقیقات دبانے کی کوشش‘ بھارہ کہو آفس میں نئے کنکشن کی درخواستیں دب گئیں جس سے عوام مشکلات سے دوچار ہوگئے ، ذرائع کے مطابق قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب سے گیارہ ہزار وولٹیج کی تاریں گزر رہی تھیں کہ اچانک بجلی کی تاریں زمین پر گر گئیں جس کی وجہ سے آگ لگ گئی.

جس پر ایس ای آئیسکو نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں تو بااثر ایکسین مصطفی ب لوچ نے دبانے کی کوشش کی جو تاحال التواء کا شکار ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسیئن بھارہ کہو آفس میں شہریوں کی سینکڑوں درخواستیں موجود ہیں جن میں نئے میٹر اور شیفٹنگ کے کیس ہیں لیکن ایکسیئن مصطفی بلوچ اور ان کا عملہ مٹھی گرم کئے بغیر کام نہیں کرتا بلکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسیئن بھی مبینہ طور پر ملوث ہے۔

اوصاف کو ذرائع نے بتایا کہ قائد اعظم یونیورسٹی گیارہ ہزار وولٹ کیس جو کہ مینٹیننس کے لئے منظور ہونا تھا منظور نہ کیا بلکہ اسی کیس کو بھی التواء کا شکار کردیا جس کے بعد ان کی ہیڈ آفس میں شکایت کرنے پر منٹیننس منظور کیا گیا ، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسیئن ب ھارہ کہو کے دفتر میں سینکڑوں شہری مری اور بھارہ کہو کے علاقوں سے کام کے لئے آتے ہیں لیکن کوئی کام معاملات طے کئے بغیر نہیں ہوتا۔

عوامی‘ سماجی حلقوں نے چیف ایگزیکٹو آئیسکو سے معاملے کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، اسی حوالے سے جب اوصاف نے متعلقہ افسر ایکسیئن بھارہ کہو سے ان کا مؤقف جاننے کیلئے رابطہ کیا تو موصوف نے فون اٹھانا تک گوارہ نہ کیا۔