Shaza Fatima Capitalnewspoint.com

سائبر سکیورٹی اب قومی سلامتی کا اہم چیلنج بن چکی ہے. شزہ فاطمہ

اسلام آباد(کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیرِ اہتمام اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے اشتراک سے ہفتۂ آگاہی برائے سائبر سکیورٹی 2026 کی اختتامی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ 17 سے 23 اکتوبر تک جاری رہنے والی ملک گیر آگاہی مہم کا عنوان ’’محفوظ، مستحکم اور قابلِ اعتماد سائبر اسپیس کی تشکیل‘‘ تھا۔

مہم کا مقصد عوام میں سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل تحفظ، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور درست معلومات کی تصدیق کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا تھا ، تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں، ٹیلی کام آپریٹرز، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سائبر سکیورٹی اب محض انفارمیشن ٹیکنالوجی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام، پائیدار ترقی اور شہریوں کی روزمرہ زندگی کے تحفظ کا ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل صاحب کی سربراہی میں جو معرکہ حق کی جنگ ہم نے لڑی اس میں سائیبر سیکیورٹی اور سائیبر وار کا بہت عمل دخل تھا ، سائبر خطرات کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مصنوعی ذہانت نے آن لائن فراڈ کے طریقوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ، جعلی فون کالز، نمبر کلوننگ، بینکنگ فراڈ اور دوسروں کی ڈیجیٹل شناخت کا غلط استعمال اس قدر حقیقت سے قریب ہو چکا ہے کہ عام شہریوں کے لیے اصل اور جعلی رابطوں میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کو ایک ایسی مشکوک کال موصول ہوئی جس میں خاندان کے ایک فرد سے متعلق معلومات استعمال کرتے ہوئے رقم منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ مجرم لوگوں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں آن لائن دستیاب معلومات کو استعمال کرکے انہیں دھوکہ دے سکتے ہیں۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی غیرمتوقع فون کال، پیغام یا ای میل پر اپنی ذاتی معلومات، بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، پاس ورڈ یا ون ٹائم پاس ورڈ (او ٹی پی) فراہم نہ کریں۔ ایسے کسی بھی مطالبے کی متعلقہ ادارے سے آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر، گھروں کے پتے، گاڑیوں کے نمبر، رہائش گاہوں کے بیرونی مناظر اور بچوں کے اسکولوں سے متعلق معلومات غیرضروری طور پر شیئر کرنے سے ذاتی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر آن لائن سرگرمی ایک ڈیجیٹل فٹ پرنٹ چھوڑتی ہے، جسے مستقبل میں فراڈ، جعل سازی یا شناخت کے غلط استعمال کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے بچوں کی آن لائن حفاظت کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ کم عمر بچے بھی آن لائن گیمنگ، ورچوئل کمیونٹیز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا حصہ بن رہے ہیں، جہاں ان کا نامعلوم افراد سے رابطہ ہو سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں، ڈیجیٹل دوستوں اور ورچوئل ماحول میں ہونے والے رابطوں کے بارے میں باخبر رہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بچوں کو سائبر بُلنگ، آن لائن گرومنگ، نامناسب رابطوں اور ہم عمر افراد کے دباؤ جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، جو ان کی ذہنی صحت، پرائیویسی اور سماجی نشوونما پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ ڈیجیٹل تحفظ کے بارے میں کھل کر گفتگو کریں اور انہیں انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال کی تربیت دیں۔

شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کے بارے میں آگاہی صرف بچوں یا ٹیکنالوجی کے ماہرین تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ نوجوانوں، خواتین، والدین، پیشہ ور افراد اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ آن لائن معلومات شیئر کرنے سے پہلے رکیں، سوچیں اور ان کی صداقت کی تصدیق کریں۔

وفاقی وزیر نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ادارہ جاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، سائبر واقعات کی مؤثر رپورٹنگ اور بروقت کارروائی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت، متعلقہ اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ٹیکنالوجی انڈسٹری کو باہمی تعاون کے ذریعے سائبر خطرات سے نمٹنا ہوگا۔

انہوں نے ٹیکنالوجی انڈسٹری پر زور دیا کہ سائبر سکیورٹی کو ڈیجیٹل مصنوعات اور خدمات کا بنیادی حصہ بنایا جائے، نہ کہ کسی واقعے کے بعد اختیار کیا جانے والا اضافی اقدام۔ ان کے مطابق محفوظ ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل کے لیے حکومتی اقدامات کے ساتھ عوامی شعور، ذمہ دارانہ ڈیجیٹل رویوں اور نجی شعبے کی شراکت داری بھی ناگزیر ہے۔

تقریب کے افتتاحی کلمات میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ذمہ دارانہ ڈیجیٹل ابلاغ، اداروں کے درمیان مؤثر رابطوں اور سائبر سکیورٹی کے چیلنجز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے مربوط قومی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے متعلقہ سرکاری اداروں، ریگولیٹری اتھارٹیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صنعت اور تعلیمی اداروں کو مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لیے نیشنل سائبر سکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کی اور متعلقہ اداروں سے مجوزہ کونسل کے دائرۂ کار اور عملی طریقۂ کار کے بارے میں تجاویز طلب کیں۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمٰن نے پاکستان کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ماحول کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سائبر خطرات، ڈیجیٹل فراڈ اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے پی ٹی اے کے اقدامات، عوامی آگاہی اور متعلقہ اداروں کے ساتھ اشتراکِ عمل پر زور دیا۔

یو این ڈی پی پاکستان کے ریزیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزق نے کہا کہ محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل کے لیے صرف جدید ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ باخبر اور بااختیار صارفین بھی ضروری ہیں ، انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کے ساتھ یو این ڈی پی کا اشتراک شہریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محفوظ اور ذمہ دارانہ انداز میں سرگرم رہنے کے قابل بنانے، بالخصوص آن لائن خطرات سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کے تحفظ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

تقریب کے دوران سائبر خطرات، ڈیجیٹل تحفظ اور سائبر نظام کے استحکام سے متعلق پینل مباحثے بھی منعقد ہوئے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے سائبر سکیورٹی سے متعلق اپنی آگاہی سرگرمیوں کو اجاگر کیا ، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن محفوظ، جامع اور مستحکم ڈیجیٹل پاکستان کی تشکیل کے لیے عوامی آگاہی، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، ادارہ جاتی تیاری اور متعلقہ فریقین کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیتی ہے.