Pakistan Accounts Committee Capitalnewspoint.com

پی اے سی اجلاس: این ایچ اے کا خسارہ 1822 ارب روپے تک پہنچ گیا، ٹول ٹیکس میں اضافے پر تشویش

اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس قائم مقام چیئرپرسن شاہدہ اختر علی کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزارت مواصلات سے متعلق مالی سال 2024-25 کے آڈٹ اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ، اجلاس میں 12 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ لیپس ہونے اور 9 ارب روپے سے زائد کی گرانٹ سرینڈر کیے جانے کا معاملہ زیر بحث آیا۔

دستاویزات کے مطابق پروکیورمنٹ پراسس مکمل نہ ہونے کے باعث سکھر حیدرآباد موٹروے منصوبے کے تحت 5 ارب 69 کروڑ روپے سرینڈر کیے گئے ، اجلاس کے دوران سید امین الحق نے ایم 6 اور ایم 9 منصوبوں کے حوالے سے سوالات اٹھائے، جبکہ سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ ایم 10 کے ابتدائی 16 کلومیٹر شہر کے اندر واقع ہیں۔

سید حسین طارق نے ایم 6 منصوبے میں ماضی میں ہونے والے مبینہ غبن کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ آیا رقم واپس حاصل کرلی گئی ہے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کچھ رقم ریکور کرلی گئی ہے جبکہ بعض افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا ، چیئرپرسن شاہدہ اختر علی نے کہا کہ اگر منصوبوں کی مناسب نگرانی کی جاتی تو فنڈز کا بہتر استعمال ممکن تھا۔

انہوں نے ایم 9 کی بار بار مرمت اور ایف ڈبلیو او کی جانب سے مینٹیننس کے معاملات پر بھی سوالات اٹھائے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کے آڈٹ پیراز بھی موجود ہیں، تاہم پی اے سی اجلاسوں میں ان کے نمائندے نظر نہیں آتے، انہیں بھی کمیٹی اجلاس میں موجود ہونا چاہیے ، اجلاس میں جگلوٹ سکردو روڈ منصوبے سے متعلق 4 ارب 20 کروڑ روپے کا کام مکمل نہ ہونے کا آڈٹ اعتراض بھی زیر بحث آیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ منصوبہ 2020 میں مکمل ہونا تھا، تاہم ڈی اے سی نے اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے ، سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ منصوبے کی فزیکل پراگریس 86 فیصد ہوچکی ہے اور اسے دسمبر 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ چیئرپرسن شاہدہ اختر علی نے منصوبے کی تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رولز کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور تین ماہ کے منصوبے سات ماہ میں بھی مکمل نہیں ہوتے۔

کمیٹی اجلاس میں ٹول ٹیکس میں مسلسل اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ ایک ہی مہینے میں دو سے تین مرتبہ ٹول ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ اس وقت ٹول ٹیکس پہلے ہی کافی ہے ، سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ موٹرویز پر 85 فیصد گاڑیاں ایم ٹیگ کے ذریعے چل رہی ہیں۔

طارق فضل چوہدری نے سوال کیا کہ ملک بھر کے ٹول پلازوں کو مکمل طور پر ایم ٹیگ سسٹم پر کب منتقل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹول سسٹم میں مافیاز بھی ملوث رہے ہیں ، این ایچ اے حکام نے بتایا کہ موٹرویز پر ایم ٹیگ سسٹم فعال ہے اور اسی نظام کو تمام ہائی ویز پر بھی نافذ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق کوشش کی جا رہی ہے کہ ٹول سسٹم کو مستقبل میں بیریئر فری بنایا جائے۔

اجلاس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مسلسل خسارے میں جانے کا بھی انکشاف ہوا۔ آڈٹ حکام کے مطابق مالی سال 2023-24 میں صرف ایک سال کے دوران این ایچ اے کو 318 ارب روپے کا خسارہ ہوا، جبکہ جون 2024 تک ادارے کا مجموعی خسارہ بڑھ کر 1822 ارب روپے تک پہنچ گیا ، کمیٹی ارکان نے این ایچ اے کے بڑھتے ہوئے خسارے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ رکن کمیٹی معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ اگر ادارے کو اسی انداز میں چلایا جاتا رہا تو اس کے نقصانات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔