ایس سی او ممالک کے انسدادِ اجارہ داری اداروں کا سرحد پار مسابقتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) چیئرمین کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) فرید احمد تارڑ نے کہا ہے کہ ایس سی او ممالک کے درمیان معاشی تعاون کی بنیاد کھلی، شفاف اور منصفانہ منڈیوں پر ہونی چاہیے، جہاں کاروباری ادارے میرٹ پر مسابقت کریں اور صارفین کو بہتر قیمت، زیادہ انتخاب، جدت اور معیار کے فوائد حاصل ہوں۔

انہوں نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے انسدادِ اجارہ داری اداروں کے سربراہان کے اجلاس میں آن لائن پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ مسابقت مخالف سرگرمیاں قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہیں، اس لیے سرحد پار کارٹلز کی نشاندہی اور تحقیقات، مرجر کنٹرول اور ڈیجیٹل مارکیٹس میں علاقائی تعاون ناگزیر ہو گیا ہے ، اجلاس میں چین، روس، بھارت، ایران، پاکستان اور دیگر رکن ممالک کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

چیئرمین سی سی پی نے بتایا کہ کمیشن شکایات پر مبنی روایتی طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر فعال اور انٹیلی جنس پر مبنی مارکیٹ نگرانی کی جانب بڑھ رہا ہے ، گزشتہ دو برسوں میں سی سی پی نے 121 مرجر کلیئرنس آرڈرز جاری کیے، جن سے تقریباً 29.65 ارب روپے کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں سہولت ملی، جبکہ 83 استثنیٰ بھی دیے گئے۔

فرید احمد تارڑ نے مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، الگورتھمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پیدا ہونے والے نئے مسابقتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سی سی پی کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا ، اجلاس میں سرحد پار کارٹلز کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ 2027-28ء کیلئے ایس سی او کے انسدادِ اجارہ داری اداروں کا مشترکہ لائحۂ عمل تیار کرنے کی تجویز بھی منظور کرلی گئی۔