کراچی (بیورو رپورٹ) پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے گورنر ہاؤس کے باہر جاری 35 روزہ دھرنا ختم کردیا گیا ، دھرنے کے اختتام پر امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ کراچی کینٹ اسٹیشن سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا جائے گا۔
دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں سے قافلے اسلام آباد مارچ میں شریک ہوں گے ، ان کے بقول ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے اور گوجرانوالہ، مردان اور حیدرآباد میں بڑے اجتماعات منعقد ہوچکے ہیں۔
انہوں نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر روزمرہ استعمال کی اشیا پر بھی پڑتا ہے ، حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ حکومت پٹرولیم لیوی اور سود سے متعلق عوام کو درست معلومات فراہم نہیں کر رہی۔
امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت کی تحریک صرف ایک یا دو دن کی سرگرمی نہیں بلکہ مطالبات کی منظوری تک جدوجہد جاری رکھنے کا ارادہ ہے ، انہوں نے شوگر، آٹا، آئی پی پیز اور بینکاری شعبے سے متعلق مختلف مفادات کو عوامی مسائل کی ایک وجہ قرار دیا ، حافظ نعیم الرحمان کے مطابق 35 روزہ دھرنے کے دوران عوام میں پٹرولیم لیوی سے متعلق آگاہی پیدا ہوئی اور شہری موجودہ معاشی نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی پارٹی جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور بھی مکمل ہوگیا ، مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سیاسی پارٹی جماعت اسلامی سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کو عوام کے مطالبات پر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج اور لانگ مارچ جاری رکھنے کا مؤقف برقرار رہے گا۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومتی وفد نے جلد عوام کے لیے غیر معمولی ریلیف اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ، حکومتی نمائندوں نے مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے دباؤ کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے کا وفد جلد پاکستان آ سکتا ہے۔

