ایف آئی اے نے زمین کے معاوضے کے کروڑوں روپے کے اسکینڈل میں پی ڈبلیو ڈی کے تین سینئر افسران کو گرفتار کر لیا

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے زمین کے معاوضے کی مد میں کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی اور جعلسازی کے الزام میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (PWD) کے تین اعلیٰ افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان میںمعراج آفریدی (اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر)، محمود عرفان قریشی (اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر)، اور نعیم اختر (سب انجینئر، فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی) شامل ہیں۔

ان کے خلاف FIR نمبر 24/2025 مورخہ 27 مئی 2025 کو دفعہ 109، 409، 420، 468، 471 تعزیرات پاکستان اور انسداد بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے موضع تھلہ سیداں (G-14/3)، اسلام آباد کی زمین پر تعمیر شدہ املاک کے ضمنی ایوارڈ (Supplementary Award) میں جعلسازی کرتے ہوئے ایسے افراد کو شریک مالک ظاہر کیا جو اصل مالکان نہیں تھے۔

یہ ایوارڈ 20 مارچ 2017 کو زمین ایکوزیشن ایکٹ 1894 کی دفعہ 11 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔متاثرہ خاتون غلام فاطمہ زوجہ عبدالرشید (مرحوم) اور ان کے خاندان کی 12 تعمیر شدہ املاک (BUPs) تھیں جن کے نمبر 994، 995، 996، 999، 1006، 1007، 997، 998، 1010، 988، 991 اور 1000 تھے۔ ان میں سے چند BUPs کے معاوضے (رقوم اور پلاٹ) حقیقی مالکان کو دیے گئے، تاہم BUP نمبر 1000، 996، 999، 1006 اور 1007 کے معاوضے میں بعض جعلی نجی افراد کو شریک مالکان ظاہر کرکے ان کے ساتھ غیرقانونی طور پر رقم اور پلاٹ دیے گئے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ گرفتار افسران نے نجی افراد کے ساتھ ملی بھگت کرکے انہیں غیرقانونی طور پر ایوارڈ میں شامل کیا۔ یہ افراد نہ تو زمین کے اصل مالکان تھے اور نہ ہی ان کے نام کسی سرکاری ریکارڈ میں موجود تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور FIA اس بڑے جعلسازی کیس کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ اس سکینڈل نے زمین الاٹمنٹ کے نظام پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں اور اعلیٰ سطح پر احتساب کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔