اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن محترمہ شزا فاطمہ خواجہ نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ڈائریکٹر جنرل کے ہمراہ لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کے مرکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے زراعت اور زمین کے نظم و نسق میں جاری ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید اقدامات کا جائزہ لیا وفد کا استقبال ڈی جی LIMS میجر جنرل محمد ایوب احسن نے کیا جبکہ ڈاکٹر کرنل وقار نے انہیں بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ LIMS ملک میں فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانے، جدید ایگری ٹیک مشورے دو ملین سے زائد کسانوں تک پہنچانے، اور مثلاً 2023 میں سفید مکھی کے حملے جیسے مسائل کے خودکار حل کے ذریعے 5 ارب روپے سے زائد کی بچت جیسے اقدامات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر اور ان کی ٹیم نے وزارتِ آئی ٹی کے تحت شروع کیے گئے منصوبے “ایگری اسٹیک” کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔ وزیرِ موصوفہ نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایگری اسٹیک پاکستان کی زراعت میں انقلاب لانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک مکمل ڈیجیٹل ایکو سسٹم اور ای-کامرس پلیٹ فارم ہے جو LIMS کے ذریعے تیار کیا گیا ہے دیگر اہم اقدامات میں “پاک سرزمین کارڈ” بھی شامل ہے، جو کسانوں کے لیے ایک سمارٹ ٹول ہے جسے GIS/RS کی بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ زمین کے ریکارڈ، سبسڈی اور زرعی مشورے تک آسان رسائی ممکن ہو سکے وفد کے درمیان پاکستانی زرعی مصنوعات کی برآمدی استعداد کے ساتھ برانڈنگ کے امکانات پر بھی مفصل گفتگو ہوئی۔ نوجوانوں کے لیے زراعت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا گیا، جن میں اسمارٹ فونز کی تقسیم، رابطے کی بہتری، فصلوں کی پیداوار کی پیش گوئی کے لیے AI کا استعمال، اور LIMS کے تحت مرکزی زرعی ٹیکنالوجی نظام کا قیام شامل ہے مربوط پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے LIMS کی ایگری ٹیک اور آپریشنل توسیع کی حمایت کے لیے ایک اسٹیئرنگ گروپ بنانے کی تجویز پر بھی بات چیت ہوئی۔ شزا فاطمہ خواجہ نے LIMS کو پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کا فلیگ شپ منصوبہ قرار دیا، جبکہ DG SIFC نے اس منصوبے کو حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج کی مشترکہ کاوشوں کی بہترین مثال قرار دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان کی زراعت اور ماحولیاتی شعبے کے لیے ٹیکنالوجی سے مزین اور پائیدار مستقبل کے عزم کا اعادہ کیا وفاقی وزیر برائے آئی ٹی نے لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم (LIMS) کی رسائی اور استعمال میں آسانی پر خاص زور دیا ہے۔ ان کی ہدایت ہے کہ LIMS پلیٹ فارم مکمل طور پر فعال ہو اور اسمارٹ فونز کے ذریعے عام عوام کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔ اس اقدام کا مقصد زمین سے متعلق خدمات کو عوام کی دسترس میں لانا، شفافیت میں اضافہ اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ موبائل کے ذریعے رسائی سے ریئل ٹائم ڈیٹا، مقام کی نشاندہی، اور زمین کے ریکارڈ کا مؤثر انتظام ممکن ہو سکے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس قسم کی ڈیجیٹل شمولیت زمین کے نظم و نسق کو جدید بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے.

