کامسیٹس کے زیرِ اہتمام قابلِ تجدید توانائی پر بین الاقوامی سیمینار، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری کا 2030 تک 60 فیصد بجلی صاف ذرائع سے حاصل کرنے کے عزم کا اظہار

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ان دی ساؤتھ (COMSATS) نے قومی و بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون سے “توانائی کا مستقبل: قابلِ تجدید اور صاف توانائی کی جدید ٹیکنالوجیز” کے موضوع پر ایک بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بطور مہمانِ خصوصی افتتاحی اجلاس کی صدارت کی جو کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ افتتاحی اجلاس میں فلسطین، فلپائن، صومالیہ، شام، سوڈان اور زمبابوے کے سفراء و سفارتکاروں نے بھی شرکت کی وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا کاربن اخراجات میں ایک فیصد سے بھی کم کا ذمہ دار ہے لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سورج، ہوا اور آبی وسائل کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس کا استعمال قومی ترجیح ہے تاکہ توانائی میں خود کفالت اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر توانائی نے حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں خود مختار بورڈز کے قیام کے ذریعے گورننس کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، نجکاری کے ذریعے کارکردگی بہتر بنائی جا رہی ہے اور جدید و اسمارٹ میٹرنگ کے ذریعے نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف انفراسٹرکچر کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ جدید پیش گوئی، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام اور ڈیجیٹل انضمام بھی لازمی ہیں۔ اس مقصد کے لیے “پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی” (PPMC) قائم کی گئی ہے تاکہ حقائق پر مبنی فیصلہ سازی کو فروغ دیا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 2030 تک اپنی 60 فیصد بجلی صاف اور قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مزید کہا کہ ہمارے قومی گرڈ میں اس وقت 2000 میگاواٹ ہوا، 800 میگاواٹ شمسی اور 10 ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی شامل ہے جبکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے تقریباً 7000 میگاواٹ مزید نظام میں شامل ہو چکے ہیں جو ہمارے پائیدار توانائی کے مستقبل کی جانب واضح پیش رفت ہے وفاقی وزیر توانائی نے کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سفیر ڈاکٹر محمد نفیس ذکریا، ریکٹر سی یو آئی پروفیسر ڈاکٹر ساجد قمر اور تمام شریک اداروں کا شکریہ ادا کیا اور کامسیٹس کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ایگزیکٹو ڈائریکٹر کامسیٹس نے کہا کہ رکن ممالک اور بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے 15 اداروں کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیز کو کس قدر اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے توانائی کی سلامتی کو پائیدار ترقی کی بنیاد قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ قابلِ بھروسہ، سستی اور صاف توانائی تک رسائی کو یقینی بنایا جائے جیسا کہ ایس ڈی جی 7 میں درج ہے۔ سفیر ذکریا نے بتایا کہ کامسیٹس مقامی طور پر الیکٹرک وہیکل (EV) ٹیکنالوجی کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر سید کمال طیبی (صدر، ایکو سائنس فاؤنڈیشن)، پروفیسر لیو وی ڈونگ (ایگزیکٹو ڈائریکٹر ANSO) اور پروفیسر ڈاکٹر جنید مغل (کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد) نے بھی خطاب کیا اور صاف توانائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ANSO نے اپنی تنظیم کی اسکالرشپس، فیلوشپس، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور استعداد کار بڑھانے کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ 78 رکن اداروں کے تعاون سے سائنسی و تکنیکی میدان میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے سیمینار میں چار تکنیکی سیشنز منعقد ہوئے جن میں چین، ایران، مراکش، پاکستان، سری لنکا، شام، ترکیہ اور امریکہ کے 15 ماہرین نے قابلِ تجدید اور صاف توانائی میں جدید رحجانات، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے انضمام اور پالیسی اقدامات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان موضوعات میں شمسی توانائی، ہوا سے بجلی، بایو فیولز، سمندری توانائی، توانائی کے ذخائر میں نئی ایجادات، مصنوعی ذہانت پر مبنی توانائی کے نظام اور اسمارٹ گرڈز شامل تھے۔

اس تقریب میں 70 سے زائد افراد نے ذاتی طور پر اور 80 افراد نے آن لائن شرکت کی۔ شرکاء میں سائنسدان، محققین، پالیسی ساز، اساتذہ اور طلباء شامل تھے جو بنگلہ دیش، چین، انڈونیشیا، جمیکا، مراکش، نائجیریا، پاکستان، فلسطین، سری لنکا، سوڈان، شام، ترکیہ، امریکہ اور زمبابوے سے تعلق رکھتے تھے۔