اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے جمعہ کو کراچی میں قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کے 100 ویں اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان نے کی۔ اس موقع پر مزار قائد کے انتظامی امور سے متعلق مختلف اہم فیصلے کیے گئے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے قومی ورثے کے تحفظ اور مزار قائد کے تقدس کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔بعد ازاں، چیئرپرسن نے سندھ ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ایسٹیوٹا) کا دورہ کیا۔ دورے کا اہتمام ایسٹیوٹا کے چیئرمین جنید بلند نے کیا جنہوں نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی اور ان کی ٹیم کا پرتپاک استقبال کیا۔ ملاقات میں دونوں اداروں کے درمیان سکل ڈویلپمنٹ اور ہنرمند پروگرامز کے اشتراک پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ایسٹیوٹا کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہنرمند نوجوانوں کی تیاری معاشی خودمختاری کی بنیاد ہے اور بی آئی ایس پی چاہتا ہے کہ اپنے مستحق بینیفیشریز کو ہنر مند بنا کر روزگار کے قابل بنایا جائے۔چیئرمین ایسٹیوٹا جنید بلند نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم بی آئی ایس پی کے مشن میں مکمل طور پر شریک ہیں اور ایسٹیوٹا اپنے تمام وسائل بی آئی ایس پی کے بینیفیشریز کی سکل ٹریننگ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے فراہم کرے گا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کراچی میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ریجنل دفتر کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پرانہوں نے بی آئی ایس پی کے افسران و عملہ کے جذبے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے تمام ملازمین غریب اور مستحق خواتین کی خدمت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو نہ صرف ایک قومی خدمت ہے بلکہ عبادت کے مترادف عمل بھی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ادارہ اپنے ایماندار اور محنتی افسران و عملہ کے ساتھ مکمل طور پر کھڑا ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون اور تحفظ فراہم کرے گا۔
چیئرپرسن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شفافیت اور جوابدہی بی آئی ایس پی کے بنیادی اصول ہیں۔ اس سلسلہ میں اگر کسی سطح پر بے ضابطگی یا خلاف ضابطہ عمل پایا گیا تو اس کی جانچ میرٹ پر کی جائے گی اور ضروری کارروائی قانون کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔

