اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم، تھانہ انڈسٹریل ایریا نے سینئر صحافی کی درخواست کا ڈائری نمبر جاری کر دیاغیر قانونی حراست و تشدد کیس میں پیش رفت؛ چیف جسٹس کے حکم پر پولیس نے درخواست وصول کر کے کارروائی شروع کر دی, مجسٹریٹ و اہلکاروں کے کردار پر سنگین سوالاتاسلام آباد ()اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر تھانہ انڈسٹریل ایریا نے سینئر صحافی محمد شفیق بھٹی کی درخواست کا ڈائری نمبر جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پٹیشن نمبر 4796/2025 پر فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او انڈسٹریل ایریا کو ہدایت کی تھی کہ وہ صحافی کی درخواست فوراً وصول کر کے ڈائری نمبر لگائے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کرے۔یاد رہے کہ اسلام آباد میں تعینات ایک مبینہ بدعنوان مجسٹریٹ اور ضلعی انتظامیہ کے ڈیلی ویجز اہلکاروں کا سینئر صحافی پر تشدد، حبسِ بےجا اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔متاثرہ صحافی شفیق بھٹی نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت ایڈوکیٹ سپریم کورٹ علی حسین بھٹی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن نمبر21480/2025دائر کر دی ہے۔
درخواست کے مطابق، مورخہ 23 اکتوبر 2025 کی شام باوثوق ذرائع سے اطلاع ملی کہ مبینہ مجسٹریٹ راجہ شعیب ایکسائز آفس انڈسٹریل ایریا کے باہر پرائیویٹ افراد کے ساتھ مبینہ مالی لین دین میں مصروف ہیں۔ شام تقریباً 4:30 بجے صحافی موقع پر پہنچا تو راجہ شعیب، ایک شخص اسامہ (ڈیلی ویجز ملازم، مارکیٹ کمیٹی) اور چار نامعلوم پرائیویٹ افراد دو ایجنٹوں سے مبینہ رشوت کے لین دین میں مصروف نظر آئے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج ایکسائز آفس اور میٹرو اسٹیشن کے کیمروں سے بآسانی حاصل کی جا سکتی ہے۔صحافی کے مطابق، جب اس نے ثبوت محفوظ کرنے کے لیے چھوڑے گئے دو ایجنٹوں کی ویڈیو بنانی شروع کی، تو مجسٹریٹ نے جارہانہ انداز میں اعتراض کیا کہ بغیر اجازت ویڈیو کیوں بنا رہے ہو، جبکہ پرائیویٹ شخص اسامہ نے زبردستی موبائل فون چھین لیا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مبینہ مجسٹریٹ راجہ شعیب نے دھمکی دی کہ ہم نے پہلے بھی تم جیسے صحافیوں کو پریس کلب میں گھس کر مارا ہے، تمہیں بھی ماریں گے۔درخواست کے مطابق اس موقع پر تشدد، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور حبسِ بےجا کے واقعات پیش آئے۔متاثرہ صحافی کو تھانہ انڈسٹریل ایریا منتقل کر کے تقریباً پانچ گھنٹے غیر قانونی طور پر حوالات میں بند رکھا گیا۔ جبکہ اسامہ، ڈیوٹی افسر اطہر نیازی اور گشت افسر اعجاز نے بتایا کہ مجسٹریٹ انڈسٹریل ایریا راجہ شعیب نے کہا ہے کہ اگر آپ وعدہ کریں کہ آپ اس ویڈیو کو صحافتی ایشو نہیں بنائیں گے۔تو آپ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انکار پر ایف آئی آر درج کرنے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے رہے۔
تین بار مسلسل انکار پر حوالات میں پابند سلاسل کر دیا۔میڈیا کی مداخلت پر رات دس بجے رہا کیا گیا۔الزامات کے مطابق، ڈیوٹی افسر اطہر نیازی، اے ایس آئی اعجاز اور پرائیویٹ شخص اسامہ نے سادہ کاغذ پر زبردستی دستخط اور انگوٹھے کے نشان لیے۔متاثرہ صحافی نے ابتدائی طور پر آئی جی آفس اسلام آباد کو شکایت دی، جسے بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز کو دینے کا کہا گیا۔ تاہم ڈی آئی جی آفس نے چار روز درخواست رکھنے کے باوجود ڈائری نمبر جاری نہیں کیا۔بعد ازاں صحافی نے سیشن کورٹ میں سیکشن 22-A کے تحت درخواست دائر کی،عدالت نے متعلقہ تھانہ انڈسٹریل ایریا سے ڈائری نمبر نہ لگنے کی بنیاد پر درخواست واپس کر دی۔ جس کے بعد متاثرہ فریق نے عدالتِ عالیہ (ہائی کورٹ) سے رجوع کیا۔ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ مجسٹریٹ راجہ شعیب، ڈیلی ویجز ملازم اسامہ، اے ایس آئی اعجاز، ڈیوٹی افسر اطہر نیازی اور دیگر نامعلوم پرائیویٹ افراد کے خلاف تشدد،حبسِ بےجا،دھمکیاں دینے اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر ایف آئی آر درج کر کے شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے۔مذکورہ رٹ پٹیشن کی ابتدائی سماعت جلد متوقع ہے.
جبکہ صحافتی تنظیموں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ پریس فریڈم، میڈیا سیفٹی اور ریاستی اہلکاروں کی جوابدہی کے لیے ایک اہم ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے۔جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر تھانہ انڈسٹریل ایریا نے سینئر صحافی محمد شفیق بھٹی کی درخواست کا ڈائری نمبر جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پٹیشن نمبر 4796/2025 پر فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او انڈسٹریل ایریا کو ہدایت کی تھی کہ وہ صحافی کی درخواست فوراً وصول کر کے ڈائری نمبر لگائے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کرے۔

