اسلام آباد(کرائم رپورٹر)جعلی ملازمتوں کے اشتہارات اور سائبر سرگرمیوں کے ذریعے غیر قانونی ہجرت اور انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے نیشنل آگاہی فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے مراحل میں داخل کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں انٹرنیشنل سینٹر فار مائیگریشن پالیسی ڈیویلپمنٹ (ICMPD) کے اشتراک سے دو روزہ “ویلیڈیشن ورکشاپ” کا انعقاد کیا گیا۔

یہ ورکشاپ FJA-PAK منصوبے کے تحت منعقد کی گئی، جو ناروے کے ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن کے مالی تعاون سے چلایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانی شہریوں میں آگاہی پیدا کرنا اور جعلی نوکریوں کے اشتہارات اور آن لائن فراڈ کے خطرات سے بچاؤ ممکن بنانا ہے۔

ورکشاپ کا مقصد جعلی ملازمتوں سے متعلق قومی آگاہی فریم ورک کو حتمی شکل دینا تھا۔ اس موقع پر شرکاء نے عملی سیشنز، تجربات کے تبادلے اور تجاویز کے ذریعے آگاہی اقدامات کے ڈیزائن اور نفاذ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی اور ایک جامع نیشنل آگاہی مہم کے لیے سفارشات پیش کیں۔ ورکشاپ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاقِ رائے سے نیشنل پلان آف ایکشن برائے آگاہی کے خدوخال بھی طے کیے گئے۔

ورکشاپ میں وزارت داخلہ، ایف آئی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA)، اسلام آباد پولیس، پیمرا، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC)، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE)، نیشنل پولیس بیورو (NPB)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، مائیگرنٹ ریسورس سینٹر (MRC) اور نیشنل سائبر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (PKCERT) کے نمائندگان نے شرکت کی۔


