یونیورسٹی آف لاہور میں فیس تنازع: 22 سالہ طالب علم کی افسوسناک موت، تحقیقات کا مطالبہ

لاہور (بیورو رپورٹ )یونیورسٹی اف لاہور کی فیس ادا نہ کرنے پر طالب علم نے خود کشی کر لی کلاس میں ٹیچر نے طالب علم کی تصیک کر دی کہ فیس ادا کرو گے کلاس میں بیٹھنے دیں گے یہ واقعہ
یونیورسٹی آف لاہور میں پیش آیا جہاں فیس اور حاضری کے معاملے پر 22 سالہ طالب علم اویس سلطان نے خودکشی کرلی ۔ واقعہ کی اطلاع بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی اویس سلطان کا تعلق کمالیہ سے تھا اور وہ یونیورسٹی آف لاہور میں زیرِ تعلیم تھے ذرائع کے مطابق طالب علم کو کلاس میں داخلے کے دوران فیس اور حاضری کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا، جس پر انہیں کلاس چھوڑنے کا کہا گیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق اویس پہلے ہی گھریلو مسائل کے باعث ذہنی دباؤ میں تھے اور انہوں نے اس معاملے پر متعلقہ اساتذہ سے رعایت کی درخواست بھی کی تھی۔

واقعے کے بعد پولیس نے اویس سلطان کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گیا ۔ طالب علم کی موت کے بعد یونیورسٹی آف لاہور انتظامیہ کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ طلبہ اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تنقید یہ بھی کی جا رہی ہے کہ واقعے کے بعد یونیورسٹی آف لاہور میں ہونے والی دیگر سرگرمیوں کو منسوخ نہیں کیا گیا، جسے متاثرہ خاندان اور طلبہ نے بے حسی قرار دیا۔ اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت، فیس پالیسی اور اساتذہ کے رویے پر ایک بار پھر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔