اسلام آباد (کرائم رپورٹر)ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے رفعت مختار راجہ کی ہدایت پر ادارے میں اندرونی احتساب کا عمل جاری ہے۔ ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکاونٹیبیلیٹی نے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 271 اہلکاروں کو مختلف سزائیں سنائیں، جن میں 88 افسران اور اہلکار بدعنوانی، نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث برطرف کیے گئے۔
برطرف ہونے والوں میں 2 ڈپٹی ڈائریکٹرز، 6 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، 13 انسپیکٹرز، 20 سب انسپیکٹرز، 5 اے ایس آئی، 13 ہیڈ کانسٹیبل، 20 کانسٹیبل اور 9 منسٹریل سٹاف شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، سال 2025 میں 10 اہلکاروں کو عہدے کی تنزلی اور 168 افسران و اہلکاروں کو ترقی روکنے یا دیگر معمولی سزائیں دی گئیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ادارے میں کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ رفعت مختار راجہ نے کہا کہ ادارے کو کرپشن اور کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے اور غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی محکمانہ احتساب کا مقصد قانونی اور پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عمل کو یقینی بنانا اور انسانی سمگلنگ و کرپشن کے خاتمے کو ممکن بنانا ہے۔

