ایف جی ایچ اے میں 51 کروڑ روپے کرپشن کیس، ڈپٹی کمشنر کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کے سیکٹر آئی 14ون کروڑوں روپے مالیت کی کر پشن کے الزام میں ایف آئی اے نے ڈپٹی کمشنر لینڈ ایف جی ایچ اے کو عدالت پیش کر کے دو روز مزید جسمانی ریمانڈ لے لیا دیگر ملزمان ، دو پر اپر ٹی ڈیلروں کی گر فتاری کے لئے چھاپےپر اپر ٹی ڈیلر گھر سے ہو گئے۔

ایف آئی اے نے چھیلو گاؤں کے متاثرین کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کہ ڈپٹی کمشنر لینڈ یاسر قیوم خان کو گرفتار کر کے عدالت پیش کر کے دو روزہ ر یمانڈ لے کر تفتیش شروع کی تاہم ایف آئی اے دو دنوں میں ملزم سے ثبوت یا کسی قسم کی پرآمدگی نہ کر سکی تاہم گز شتہ روز ایف آئی اے نے جوڈیشل مجسڑ یٹ کی عدالت میں پیش کر کے مزید دو روزہ ر یمانڈ لے لیا ہے ، متاثرین نے ڈی جی ایف آئی اے کو 13 جون 2025 کو ایف جی ایچ اے میں ہونے والی کروڑوں روپے کی کرپشن کے خلاف درخواست دی تھی۔

درخواست میں موقف ا ختیار کیا گیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی 14 ون میں متاثرین نے مارچ 2025 کو بذریعہ لیٹر ایوارڈ برائے مکانات سنایا جس میں ایوارڈ سنانے کے بعد فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی کے افسران نے تمام آئین کو پشت پس پشت ڈالتے ہوئے 26 عدد بی یو پی کے اصل مالکان سے فراڈ کرتے ہوئے اپنے منظور نظر لوگوں کو تقریبا 51 کروڑ روپے ادا کیے.جو کہ اصل رقم سے 100 گنا زیادہ ہیں متاثرین نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کہ افسران جن میں ڈائریکٹر فنانس اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقاص بلوچ اسسٹنٹ ڈائریکٹر بی یو پی، یاسر قیوم خان ڈپٹی کمشنر، سی عرفان ڈوگر تحصیلدار، اور دیگر افسران پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے 51 کروڑ روپے منظور نظر افراد کو بینک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیے اور قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔