اسلام آباد سیکٹر G-14/1 میں بی یو پی فراڈ کیس، عدالت کا ایف آئی اے کی کارکردگی پر سخت سوالات یاسر قیوم جیل روانہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر G-14/1 میں متاثرین کو بی یو پی کی مد میں دی جانے والی کروڑوں روپے کی رقم میں مبینہ فراڈ کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایف آئی اے نے مقدمے کے مرکزی ملزم، ڈپٹی کمشنر لینڈ یاسر قیوم کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ایف آئی اے کی اب تک کی تفتیشی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی ادارہ یہ بتائے کہ اب تک کیس میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس پر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا۔ عدالت نے جواباً کہا کہ اگر اب تک کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی تو آئندہ کیا کیا جائے گا؟ عدالت نے ایف آئی اے کی کارکردگی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے اس کیس میں ڈپٹی کمشنر لینڈ یاسر قیوم سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تاہم تفتیش کے دوران مبینہ ملی بھگت کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی افسران نے تحصیلدار عرفان ڈوگر کو مبینہ طور پر مقدمے سے نکال دیا، جبکہ بلو ایریا اسلام آباد میں قتل ہونے والے ڈائریکٹر لینڈ احسان الٰہی کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، جس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

دوسری جانب ایف آئی اے کارپوریٹ سرکل سات روزہ جسمانی ریمانڈ کے دوران ملزم سے کوئی قابلِ ذکر ثبوت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے مبینہ ملی بھگت کے تحت ملزم کو جیل بھجوا دیا، جبکہ عدالت میں پیشی کے موقع پر اسے پروٹوکول دیا گیا اور ہتھکڑی کے بغیر پیش کیا گیا، جو کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد کے لیے لمحۂ فکریہ قرار دیا جا رہا ہے,کیس میں سامنے آنے والی ان پیش رفتوں کے بعد ایف آئی اے کی تفتیش اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جبکہ متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔