کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کی ٹویوٹا، ڈائملر اور ہینو کے عالمی انضمامی منصوبے کی منظوری

اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر)کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے دو باہم مربوط انضمامی لین دین کی منظوری دے دی ہے جو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن، ڈائملر ٹرک اے جی، ہینو موٹرز لمیٹڈ اور مٹسوبشی فوسو ٹرک اینڈ بس کارپوریشن (ایم ایف ٹی بی سی) کے درمیان ایک وسیع تر عالمی تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کا حصہ ہیں،یہ تمام ادارے مل کر ایک واحد اور مربوط کاروباری تنظیمِ نو تشکیل دیتے ہیں، جس کا مقصد ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی کے کمرشل وہیکل آپریشنز کو ایک نئے قائم کردہ ہولڈنگ اسٹرکچر کے تحت یکجا اور مشترکہ طور پر منظم کرنا ہے۔

اس تنظیمِ نو کے تحت، ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے اپنی ذیلی کمپنی ہینو موٹرز لمیٹڈ کے ذریعے مٹسوبشی فوسو ٹرک اینڈ بس کارپوریشن کی مکمل ملکیت حاصل کر لی ہے۔ اسی دوران، ڈائملر ٹرک اے جی نے ایک نئی قائم شدہ ہولڈنگ کمپنی، اے آئی بی لمیٹڈ، میں حصص حاصل کیے ہیں، جس کے ذریعے ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی کو مشترکہ طور پر ملکیت اور انتظام میں رکھا جائے گا،کمیشن نے دونوں لین دین کا جائزہ پاکستان میں مسابقت پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں لیا، خصوصاً بسوں اور ٹرکوں کی تیاری اور تقسیم کے شعبے میں۔ اگرچہ جائزے کے دوران ہینو اور ایم ایف ٹی بی سی کے کمرشل وہیکل آپریشنز میں کچھ حد تک مماثلت پائی گئی، تاہم کمیشن نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس تنظیمِ نو سے متعلقہ منڈیوں میں کسی غالب پوزیشن کی تخلیق یا مضبوطی نہیں ہوتی۔ پاکستان میں کمرشل وہیکل کا شعبہ بدستور مسابقتی ہے اور کئی مستحکم کمپنیاں اس مارکیٹ میں سرگرم ہیں۔

ڈائملر ٹرک اے جی کی ہولڈنگ کمپنی میں حصص کے حصول کے حوالے سے کمیشن نے نوٹ کیا کہ ڈائملر ٹرک اے جی اب پاکستان میں کسی آزاد کمرشل وہیکل آپریشن کی مالک نہیں ہے۔ اس کا واحد متعلقہ مفاد، یعنی ایم ایف ٹی بی سی، پہلے ہی تنظیمِ نو کے پہلے مرحلے میں ٹویوٹا کے زیرِ ملکیت آ چکا تھا۔ لہٰذا یہ لین دین مسابقتی لحاظ سے غیر جانبدار قرار دیا گیا اور اس کا پاکستان کی مارکیٹ میں مسابقت پر کوئی اثر نہیں پڑتا،اپنے حتمی جائزے میں، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان نے قرار دیا کہ دونوں باہم مربوط لین دین، جب ایک واحد اور وسیع تر تنظیمِ نو کے حصے کے طور پر دیکھے جائیں، تو کسی بھی قسم کے مسابقتی خدشات کو جنم نہیں دیتے۔ چنانچہ دونوں لین دین کو مقابلہ ایکٹ 2010 اور کمپیٹیشن مرجر کنٹرول ریگولیشنز 2016 کے تحت منظور کر لیا گیا۔