اسلام آباد (سپیشل رپورٹر )کلکٹریٹ آف کسٹم اسلام آباد کی بڑی سیاسی شخصیت کے بیٹے سے چھ کروڑ سے زائد مالیت کی گاڑی قبضہ میں لے لی ملزم کو حراست میں لے لیا مبینہ ملی بھگت سے کسٹم ہاؤس سے گاڑی غائب معاملہ کلیکٹر تک پہنچا تو کسٹم میں کھلبلی مچ گئی گاڑی ای 11 سے برامد ملزم گرفتار مقدمہ درج کر لیا دوران تفتیش ملزم سے کروڑوں روپے مالیت کی مزید دو نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں برآمد ہوئی .
تفصیلات کے مطا بق کسٹم نے ایک بڑی کارروائی کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی سمگل شدہ رولز رائس کار برآمد کر لی، جبکہ ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ واقعہ 14 جنوری 2026 کو پیش آیا۔کسٹمز ذرائع کے مطابق انسپکٹر کسٹمز خالد صمد کو ڈی ایل ہیڈ کوارٹر سے اطلاع موصول ہوئی کہ ایک مشکوک رولز رائس کار (رجسٹریشن نمبر APF-025، بلیک کلر، ماڈل 2013) اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے ذریعے لاہور جا رہی ہے۔ اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے کسٹمز ٹیم مندرہ ٹول پلازہ، جی ٹی روڈ راولپنڈی پہنچی جہاں مذکورہ گاڑی کو روک لیا گیا۔گاڑی میں سوار دو افراد عثمان محمود اور احمد عباس سے کسٹمز کے قانونی دستاویزات طلب کیے گئے تاہم وہ کوئی بھی قانونی کاغذات پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد گاڑی کو سمگل شدہ قرار دیتے ہوئے دونوں افراد سمیت کسٹمز ہاؤس G-9/1 اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق کسٹم کے چند اہلکاروں اورایک افسر نے مبینہ ملی بھگت کرتے ہوئے کروڑوں روپے کی گاڑی کسٹم ہاؤس سے نکال دی بعد ازاں افسران کو معاملے کا پتہ چلا تو ماتحت افسران میں اور اہلکاروں میں کھلبلی مچ گئی جب سی سی ٹی فٹیج چیک کی تو معاملات کا پتہ چل گیا جس کے بعد کسٹم کو پولیس کی مدد لینا پڑی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسٹم کے ایک افسر نے معاملہ پولیس تک پہنچایا کہ ان کی گاڑی فواد ہائٹس ای 11 میں کھڑی ہے جہاں پر جا کر گاڑی پکڑی جانی ہے لہذا اگر پولیس ہمراہ ہوگی تو خوش اسلوبی سے گاڑی قبضہ میں لے لی جائے گی جس پر وفاقی پولیس نے کسٹم کے ساتھ مل کر گاڑی کو فواد ہائٹس، سیکٹر E-11 اسلام آباد سے برآمد کر لیا ، جبکہ دوسری جانب کسٹم حکام یہ دعوی کررہے ہیں کہ احمد عباس نے کسٹمز اسٹاف کو چکمہ دیتے ہوئے صبح تقریباً 4:10 بجے گاڑی کسٹمز ہاؤس سے نکال لی۔ بعد ازاں سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق ہوئی کہ ملزم نامعلوم افراد کی مدد سے بغیر نمبر پلیٹ گاڑی لے کر فرار ہوا۔مخبرِ خاص کی اطلاع پر کسٹمز اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو فواد ہائٹس، سیکٹر E-11 اسلام آباد سے برآمد کر لیا۔ کارروائی کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 103 کے تحت عمل میں لائی گئی۔ اس دوران ملزم عثمان محمود کو نوٹس 71 کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش عثمان نے انکشاف کیا کہ گاڑی کا اصل مالک کا نام حسنین اقبال سکنہ بیک روڈ ہائوس نمبر4سٹریٹ نمبر13’Cبلاک سٹی ہائوسنگ جہلم راٹھیاں ہے . ان کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی مزید دو گاڑیاں بھی موجود ہیں عثمان نے ان گاڑیوں کی نشاندہی کی کہ وہ گاڑیاں کہاں پر ہیں جس پر کسٹم نے ٹیم تشکیل دے کر کروڑوں روپے مالیت کی مزید دو گاڑیاں بھی برآمد کر لیں جس کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ گاڑی کی مالیت تقریباً 6 کروڑ روپے بتائی گئی ہے جبکہ اس پر واجب الادا ڈیوٹی اور ٹیکسز کا تخمینہ تقریباً 27 کروڑ روپے ہے۔کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور واقعے میں ملوث دیگر نامعلوم سہولت کاروں کی تلاش جاری ہے۔ مزید تفتیش کے بعد مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

