ایف بی آر کے اعلیٰ افسر کا ویزا اسکینڈل بے نقاب، پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد ظاہر کر کے فرانس کے ویزے لگوانے کا انکشاف

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک اعلیٰ افسر کے مبینہ ویزا اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جس میں پرائیوٹ افراد کو سرکاری وفد کا حصہ ظاہر کر کے فرانس کے ویزے حاصل کیے گئے۔ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سیل اسلام آباد نے ایف بی آر افسر سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے،تحقیقات کے مطابق فرانس کے ویزے کے حصول کے لیے دو پرائیوٹ افراد، کامران اور عامر شہزاد، کو سرکاری وفد کا رکن ظاہر کیا گیا۔ ان افراد کے لیے ایف بی آر کی جانب سے سرکاری ای میل کے ذریعے فرانسیسی ایمبیسی سے رابطہ کیا گیا، جس میں انہیں ایف بی آر کے ملازمین ظاہر کیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ایف بی آر کے اعلیٰ افسر عتیق الرحمان نے اس غیر قانونی عمل کے عوض مبینہ طور پر 53 لاکھ روپے وصول کیے۔ پرائیوٹ افراد میں ایک ڈرائیور جبکہ دوسرا پراپرٹی ڈیلر بتایا گیا ہے، جنہیں جعلی سرکاری حیثیت کے تحت ویزے دلوائے گئے،مقدمے کے متن کے مطابق ملزمان نے ایف بی آر افسر کو بینک کے ذریعے رقوم منتقل کیں۔ کارروائی کے دوران ایف آئی اے نے کامران اور عامر شہزاد کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا، جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے،ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید انکشافات متوقع ہیں اور سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی.

یہ بھی انکشاف ہوا کہ مسافر فرانس میں داخلے کے بعد ہی اسپین کے بارسلونا پہنچنے کا پہلے سے پلان بنا چکے تھے اور وہاں ٹکٹس اور ہوٹل بکنگز موجود تھیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد یورپ میں پناہ لینا تھا,ایف آئی اے نے عتیق الرحمان چوہدری سمیت پانچ افراد کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی، سرکاری عہدے کے غلط استعمال اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گرفتار افراد سے تفتیش جاری ہے۔