اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں ریلوے کے شعبہ ٹریفک اینڈ کمرشل کی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فریٹ اور پسنجر سیکشن کی بہتری، آمدنی میں اضافہ، اور بزنس کمیونٹی کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ریلوے آمدنی کی نگرانی سی ای او خود کریں اور کاروباری برادری کو سہولیات فراہم کر کے ریونیو بڑھایا جائے۔ اجلاس میں لگیج اور بریک وینز کی کمی کو پورا کرنے، ڈمی کوچز کے نام کی اصطلاح ختم کرنے اور کسی بھی کوچ میں مٹیریل کی کمی کو فوری پورا کرنے کی ہدایات بھی دی گئیں۔
دو کارگو ٹرینوں پر بزنس کمیونٹی کے اعتماد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے وزیر ریلوے نے تیسری کارگو ٹرین کے جلد آغاز کی تیاریوں کا اعلان کیا۔ آٹو موبائل کی نقل و حمل کے لیے 50 ویگن پر مشتمل ماڈل پلان بنانے اور کوچز کے ری فربشڈ ریک کے معیار کا آپریشنل افسران خود معائنہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی چیف کمرشل مینجر کو ٹرینوں میں سفر کر کے خامیوں کی نشاندہی کرنے کا ٹاسک دیا گیا جبکہ تمام ڈی ایس کو اپنی ڈویژنز کی نیلامیوں کو اوپن آکشن کے ذریعے یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔

