آئیسکو میں محکمانہ آڈٹ کلیئر کرنے کی کوشش، افسران اور آڈٹ ٹیم کے درمیان مبینہ ساز باز

اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر) اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی آئیسکو میں محکمانہ آڈٹ معینہ ملی بھگت سے کلیئر کروانے کی کوشش کا انکشاف، آڈٹ آفیسرز کی تاحال کوئی رپورٹ سامنے نہ آسکی، ذرائع کے مطاب دو سال قبل آڈٹ آفیسر کو کروڑوں کی نقدی سمیت ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا تھا گرفتاری کے خوف سے آڈٹ ٹیم دو سال بعد اسلام آباد آئی، ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ لاہور سے آڈٹ ٹیم آئیسکو کا محکمانہ آڈٹ کرنے کے لئے آئے تمام آفیسران کی آئیسکو کے افسران نے خاطر کی جس کے بعد راولپنڈی ڈویژن اسلام آباد کے تمام ڈویژن ایکسین آفیسرز کاآ ڈٹ کرلیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئیسکو کے افسران نے آڈٹ کرنے والی ٹیم سے مبینہ طور پر معاملات طے کررکھے تھے جنہوں نے آڈٹ پیرے بنانے کی بجائے رپورٹ مکمل کرکے چلے گئے، یاد رہے کہ دو سال قبل لاہور سے آنے والی آڈٹ ٹیم کو دو سال قبل ایف آئی اے نے کروڑوں کی رقم سمیت گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد آڈٹ ٹیم اب دو سال بعد آئیسکو کا آڈٹ کرنے کے لئے آئی جو کہ ہر سال کروانا ضروری تھا لیکن ٹیم دو سال بعد آڈٹ کرنے ائی اوردو سال کا اڈٹ مکمل کرکے چلے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکسین آفس میں ہونے والے آڈٹ میں افسران نے پہلے ہی معاملات طے کررکھے تھے جس وجہ سے تاحال کوئی بھی آڈٹ پیرا نہ بن سکا۔اوصاف کو ذرائع نے بتایا کہ اسلام اباد الیکٹرک سپلائی کمپنی کے تمام ویژن میں تعینات ایکسین اور ایس ڈی او کو واضح کہا گیا تھا کہ وہ اپنا اڈٹ رپورٹ کروائیں اور معاملے کو کلیئر رکھیں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک اڈٹ ٹیم اور اس کو افسران میں مذاکرات جاری ہیں تاکہ کسی قسم کی کرپشن کا معاملہ سامنے نہ ا سکے اس کو کے افسران کی جانب سے ابھی کوششیں جاری ہیں ۔