اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )این ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) کے اسٹریٹجک جائزہ اور صلاحیتوں کی نمائش میں 65 ممالک کے وفود نے شرکت کی، جن میں سفیران، ڈپٹی ہیڈز آف مشن (DHMs)، اور دیگر سینئر ڈپلومیٹس کے ساتھ 40 پاکستانی مشنز کے نمائندے بھی شامل تھے۔ وزارت خارجہ کے سینئر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے ، این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک HI(M) نے پاکستان کے فعال اور ٹیکنالوجی پر مبنی ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے حوالے سے جامع جائزہ پیش کیا اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ چیئرمین نے بتایا کہ ملکی سطح پر تیار شدہ یہ نظام بروقت اقدامات، معلومات پر مبنی فیصلے اور تمام سطحوں پر مربوط ردعمل ممکن بناتا ہے۔
انہوں نے دیگر ممالک کو تکنیکی مہارت، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور صلاحیت سازی کے حوالے سے تعاون فراہم کرنے کی جاری کوششوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور NEOC کی نقل، ڈیٹا شیئرنگ، مشترکہ تربیت اور مشترکہ خطرات کے ردعمل میں تعاون کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دیا۔ اس کے علاوہ، فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ماحولیاتی مزاحمت کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر پیشرفت بھی شیئر کی۔

این ڈی ایم اے کی ٹیم نے شرکاء کو ڈیزاسٹر ایئرلی وارننگ اور ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے بارے میں بریف کیا اور عملی ڈیش بورڈز، مربوط ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور حقیقی وقت کی نگرانی کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ شرکاء کو پاکستان ڈیزاسٹر لینز 2026 کے بارے میں تفصیلی ڈیمو بھی دکھایا گیا، جو اعلیٰ ریزولوشن پیشگوئیاں اور خطرے کی تجزیہ فراہم کرتا ہے تاکہ درست تیاری اور ردعمل کی منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ گلوبل ڈیزاسٹر لینز 2026 بھی پیش کیا گیا، جو بین الاقوامی ڈیزاسٹر اور ماحولیاتی نمونوں کی نگرانی حقیقی وقت میں کرتا ہے، جس سے پاکستان عالمی ڈیزاسٹر انٹیلی جنس اور ماحولیاتی مزاحمت میں اپنا کردار ظاہر کرتا ہے ، سفیران کو NDMA کے ڈیزاسٹر ایئرلی وارننگ (DEW-2) سسٹم کے بارے میں بھی بتایا گیا، جو اگلے تین ماہ کے ممکنہ خطرات اور موسمیاتی خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ NDMA کی عوامی آگاہی مہمات، موبائل بیسڈ وارننگ سسٹمز اور عالمی ڈیزاسٹر ایئرلی وارننگ (GDEW) ایپلیکیشن کے آغاز کے بارے میں بھی بریف کیا گیا، جو عالمی خطرات کے کیلنڈر، جامع بین الاقوامی سمولیشن ایکسرسائزز (CISE)، بہترین عالمی طریقہ کار اور پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کی کارکردگی فراہم کرتی ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی کمیونٹی سطح کی مزاحمت اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کو جوڑنے کی عکاسی کرتے ہیں۔

وزائرین نے پاکستان کی فعال ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں پیش رفت کی تعریف کی اور ٹیکنالوجی کے انضمام، علاقائی تعاون اور علم کے تبادلے کی اہمیت تسلیم کی۔ انہوں نے NDMA کے ساتھ ابتدائی وارننگ سسٹمز، ڈیزاسٹر تیاری اور صلاحیت سازی میں دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون مضبوط کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ، اس سیشن میں NDMA کے سینٹر آف ایکسیلنس (CoE)، ڈیزاسٹر ریزیلینٹ انفراسٹرکچر ماڈل (DRIM) اور لاگ یارڈ کا بھی دورہ شامل تھا۔

سیشن کا اختتام یادگاری تحائف اور گروپ فوٹو کے ساتھ ہوا، جو عالمی مزاحمت اور موثر ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کے لیے مشترکہ عزم کی علامت تھا ، شرکاء میں ماریشس، ترکمانستان، آئیوری کوسٹ، عمان، سعودی عرب، پرتگال، نائجیریا، نیدرلینڈز، آذربائیجان، کینیا، فلپائن، ساؤتھ افریقہ، یوگنڈا، جرمنی، آسٹریا، جاپان، تھائی لینڈ، کینیڈا، سری لنکا، ملائشیا، برونائی، جنوبی کوریا، سویڈن، ناروے، رومانیہ، روانڈا، میانمار، بیلجیم، صومالیہ، تاجکستان، برطانیہ، روس، شام، اردن، چین، چیک ریپبلک، برازیل، آئرلینڈ، ارجنٹینا، ترکی، کمبوڈیا، مصر، کویت، زمبابوے، یوکرین، گھانا، امریکہ، یمن، ایتھوپیا، تونس، قطر اور بلغاریہ کے نمائندے شامل تھے۔

چیئرمین NDMA نے سفیروں کا شکریہ ادا کیا اور محفوظ اور زیادہ مضبوط مستقبل کے لیے تعاون کے عزم کو دہرایا۔

