اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے چاول کی برآمدات کا ہدف 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کو حکومتی اور بندرگاہی سطح پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی یہ بات انہوں نے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ ریئر ایڈمرل شاہد احمد کے ہمراہ ریپ کے دورے کے موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں چاول کی برآمدات میں اضافے اور بندرگاہی سہولیات سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین ریپ ملک فیصل جہانگیر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چاول کا شعبہ اس وقت 4 ارب ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جسے 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے تقریباً 3 کروڑ ایکڑ رقبہ زیر کاشت لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کراچی سے موصول پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ نیا ہدف مقرر کرتے ہوئے چاول کی برآمدات کو 10 ارب ڈالر تک لے جائیں، حکومت اس ضمن میں ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث پاکستانی بندرگاہوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور حکومت نے آمدن کے بجائے سہولت کاری کو ترجیح دی ہے تاکہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں رول آن/رول آف سروس کا اجرا، بلک کارگو کی اجازت اور پرانی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس سے متعلق قوانین میں نرمی شامل ہے۔ مزید برآں نیلام شدہ کنٹینرز پر ڈیمرج چارجز ختم کر دیے گئے ہیں جبکہ فیڈر ویسل سروسز بھی شروع کر دی گئی ہیں وزیر بحری امور نے کہا کہ ایک اہم پیش رفت کے طور پر عید کی تعطیلات کے دوران بھی بندرگاہی آپریشنز بلا تعطل جاری رہے اور اس دوران 16 جہازوں کو ہینڈل کیا گیا، جو ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایل سی ایل کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ ٹی آئی آر قواعد میں بھی ترمیم کر کے ٹرانزٹ ٹریڈ کو آسان بنایا گیا ہے۔
انہوں نے پاکستان کے اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع کو اجاگر کرتے ہوئے کراچی پورٹ پر بنکرنگ سروسز کے اجرا کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ گہرے سمندر میں بڑے جہازوں کو ایندھن کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے جس سے تقریباً 300 ارب روپے کی تجارتی سرگرمیوں کا امکان ہے وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ کراچی پورٹ پر ڈریجنگ کا کام شروع کر دیا گیا ہے جس سے کاروباری لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔ تین ماہ میں تکمیل کے بعد بندرگاہ پر جہازوں سے سامان اتارنے کا دورانیہ سات دن سے کم ہو کر دو دن رہ جائے گا، جس سے تاجروں کو 30 سے 40 ارب روپے کا معاشی فائدہ متوقع ہے اس موقع پر چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ بندرگاہی چارجز میں 60 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے جبکہ ڈیمرج فیس بھی ختم کر دی گئی ہے تاکہ کاروباری برادری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے.

