اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)اسلام آباد کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی (آئی سی ایچ ایس) اسکینڈل میں نیب تحقیقات کے دوران ایک بڑے مالی فراڈ کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے ہاؤسنگ فراڈز میں شمار کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر تقریباً 36 ہزار پلاٹ فائلیں غیر قانونی طور پر جاری کی گئیں، حالانکہ سوسائٹی کے پاس اتنی زمین موجود ہی نہیں تھی۔ نیب راولپنڈی اور نیب اسلام آباد کی تحقیقات سے آگاہ ذرائع کے مطابق منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے تحت صرف 6 ہزار فائلیں جاری کی جا سکتی تھیں، تاہم مبینہ طور پر 42 ہزار سے زائد فائلیں جاری کی گئیں، جس سے زمین اور الاٹمنٹس میں بڑا تضاد پیدا ہوا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ہزاروں فائلوں کی مکمل ادائیگی اور الاٹمنٹ کا ریکارڈ موجود نہیں، جبکہ متعدد شہریوں کو ایسی زمین کے پلاٹس فروخت کیے گئے جو یا تو موجود ہی نہیں تھی یا قانونی طور پر منظور شدہ نہیں تھی ذرائع کے مطابق جعلی، ڈپلیکیٹ اور زائد فائلوں کے ذریعے شہریوں سے اربوں روپے وصول کیے گئے۔ اب تک اس کیس میں 16 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، تاہم مزید تحقیقات کے ساتھ اس رقم میں اضافہ متوقع ہے۔
نیب حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس کیس میں سابق مینجمنٹ کمیٹی اور لینڈ ڈیلنگ کمپنی سے تعلق رکھنے والے 7 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سابق سیکرٹری جنرل مہدی خان شاکر، سابق خزانچی ملک محمد نواز، سابق ایگزیکٹو ممبر محمد ارشد اور دیگر افراد شامل ہیں احتساب عدالت اسلام آباد نے مزید تحقیقات کے لیے نیب کو ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ نیب کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

