اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے قومی و عسکری قیادت کی ہدایت پر نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) اسلام آباد میں مون سون سے قبل ایک اہم کوآرڈینیشن کانفرنس منعقد کی۔ اجلاس کا مقصد جون سے ستمبر 2026 کے مون سون سیزن کے پیش نظر ملک بھر کی تیاریوں اور مربوط حکمت عملی کا جائزہ لینا تھا۔

اجلاس میں مون سون کے دوران ممکنہ خطرات جیسے سیلاب، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے (GLOF)، کلاؤڈ برسٹ، شہری سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر شدید موسمی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریوں پر غور کیا گیا کانفرنس میں پی ڈی ایم ایز، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (PMD)، ریسکیو اداروں، وفاقی وزارتوں، پاک فوج، این ایچ اے، واپڈا، ضلعی انتظامیہ اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں سمیت تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2026 کا مون سون غیر معمولی علاقائی فرق دکھا سکتا ہے، جس میں شمالی پاکستان اور بالائی کیچمنٹ ایریاز میں زیادہ بارش جبکہ میدانی اور جنوبی علاقوں میں کم بارش اور زیادہ درجہ حرارت کا امکان ہے۔ شمالی علاقہ جات کو سب سے زیادہ خطرے والا زون قرار دیا گیا ہے۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ بروقت وارننگ سسٹم اور عوامی آگاہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگ کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے پہلے سے تیار رہیں۔ انہوں نے تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور بروقت ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مقامی این جی اوز، رضاکاروں اور سول سوسائٹی کو بھی فعال کرنے کی ہدایت کی اور وسائل، ریسکیو آلات اور لاجسٹکس کی مکمل جانچ پڑتال پر زور دیا۔
اجلاس میں ایمرجنسی پلاننگ، انخلا کے نظام، ریلیف کیمپس کیلئے محفوظ مقامات، مواصلاتی نظام اور سیاحتی علاقوں میں سیاحوں کے تحفظ جیسے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ این ڈی ایم اے نے کہا کہ تمام اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھتے ہوئے مون سون سیزن میں مؤثر تیاری اور بروقت ردعمل یقینی بنایا جائے گا۔


