تنخواہ دار طبقے کو معمولی ریلیف، 39 ہزار سے 41 ہزار تنخواہ پر عبدالقادر پٹیل کا قومی اسمبلی میں حکومت پر طنز ان کو الماری بھی لے کر دیں وہ اتنا پیسہ کہاں رکھیں گے

کراچی (بیورو رپورٹ) عبدالقادر پٹیل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ، ملکی سیاست، خارجہ امور اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت، اپوزیشن اور ریاستی اداروں سے متعلق متعدد اہم نکات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے حالیہ دنوں میں ایسا کردار ادا کیا ہے جسے تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

ان کے مطابق دنیا کو ممکنہ بڑی جنگ سے بچانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا اور اس عمل میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر مرکزی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ، پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت پر ہمیشہ سودے بازی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی صرف ملک کے مفاد میں فیصلے کرتی ہے اور کسی سیاسی جماعت کے فائدے کے لیے کوئی سودا نہیں کرے گی، انہوں نے کہا کہ یہی حقیقی “نیا پاکستان” ہے جو نہ صرف خطے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔

بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کی آمدنی میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ تنخواہ 39 ہزار سے 41 ہزار روپے کر دی گئی ہے، اب ساتھ الماری بھی دے دی جائے تاکہ لوگ اضافی رقم سنبھال سکیں، انہوں نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسی بجلی کے بھی پیسے دیے جا رہے ہیں جو استعمال ہی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے نجی اسکولوں کی فیسوں کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو بار بار تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا، چیئرمین ایف بی آر کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی کو ٹی وی پر آ کر سیاسی نوعیت کے بیانات دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے دعویٰ کیا کہ وہاں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، اس لیے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر ضروری رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے، اپوزیشن اور حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے 2018 کے انتخابات کا حوالہ دیا اور کہا کہ ماضی کے تجربات کو سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے صومالیہ میں مبینہ طور پر یرغمال بنائے گئے پاکستانی شہریوں کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ ان پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کیے گئے اقدامات سے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا جائے، سینیٹ کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سینیٹرز کو بھی براہِ راست انتخابات میں حصہ لینا چاہیے تاکہ انہیں عوامی رائے اور زمینی حقائق کا اندازہ ہو سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ کی منظوری کے لیے ووٹ دینا ان کی جماعت کی ذمہ داری ہے، تاہم عوامی مسائل کی نشاندہی بھی ضروری ہے، اجلاس کے دوران انہوں نے وفاقی وزراء کے لباس پر ہلکے پھلکے انداز میں تبصرہ کیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ تمام اراکینِ اسمبلی معزز ہیں، اسپیکر نے اس موقع پر وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے حج انتظامات پر حاصل کیے گئے بین الاقوامی اعزازات کا بھی ذکر کیا اور وزارت کی کارکردگی کو سراہا۔