ا سلام آباد(سٹاف رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) میجر جنرل عبدالصمی نے وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے اہم ملاقات کی جس میں تھر ریل کنیکٹیویٹی منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ڈی جی ایف ڈبلیو او نے آگاہ کیا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے تحت تھر سے مقامی کوئلہ ریل کے ذریعے ملک کے مختلف بجلی گھروں تک پہنچایا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس موقع پر کہا کہ تھر کا مقامی کوئلہ درآمدی کوئلے کے مقابلے میں سستا اور پائیدار متبادل ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت نمایاں طور پر کم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق، مقامی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت صرف 4.7 روپے فی یونٹ ہوگی، جب کہ درآمدی کوئلہ 15 روپے فی یونٹ تک مہنگا پڑتا ہے۔

ایف ڈبلیو او نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ آئندہ سال مکمل کر لیا جائے گا اور تمام کام مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے تیزی سے جاری ہیں۔ منصوبے کے تحت ریل، فاسٹننگ اور تھرمٹ بیرون ملک سے درآمد کی جا رہی ہیں جبکہ سلیپرز مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کیے جا رہے ہیں، منصوبے کا جیوٹیکنیکل اور ہائیڈرو لوجیکل سروے بھی مکمل کر لیا گیا ہے اور اب منصوبہ عمل درآمد کے اہم مراحل میں داخل ہو چکا ہے،وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ ملکی معیشت میں بھی نئی روح پھونکے گا۔ اس منصوبے کی بدولت قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی اور عوام کو سستی بجلی کی صورت میں براہِ راست ریلیف ملے گا،انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ ریلوے اس قومی اہمیت کے حامل منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی، تاکہ ملک کو توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے.

