ماحولیاتی صحت اور وبائی امراض کی روک تھام کے لیے “ون ہیلتھ” فریم ورک کو اپنانے پر زور

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و ہم آہنگی کے تحت ہیلتھ سروسز اکیڈمی (HSA) اور وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی (MoCC&EC) کے اشتراک سے COMSTECH کانفرنس روم میں ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور ماحولیاتی زوال سے جڑے صحت کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیر شعبہ جاتی ہم آہنگی پر زور دیا گیا۔اجلاس کا مقصد پاکستان میں وبائی امراض کی تیاری کے لیے “ون ہیلتھ” ورک فورس ڈیولپمنٹ ایجنڈے کو فروغ دینا تھا۔ اجلاس میں عالمی ادارہ صحت (WHO)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (FAO)، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، عالمی بینک، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ماہرین شریک ہوئے۔ شرکاء نے صحت، ماحول، جنگلی حیات، موسمیاتی تبدیلی اور ترقیاتی شعبہ جات میں مربوط حکمت عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

افتتاحی کلمات پروفیسر ڈاکٹر جنید سرفراز (ریکٹر و ڈائریکٹر اکیڈمک HSA) نے وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد علی خان کی نمائندگی میں پیش کیے، جبکہ ڈاکٹر طارق محمود علی (نیشنل کوآرڈینیٹر ون ہیلتھ پروجیکٹ) نے منصوبے کے مقاصد اور نتائج پر روشنی ڈالی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے صحت ڈاکٹر نیلسن عظیم، ڈاکٹر سید مرسلین (پاکستان ون ہیلتھ الائنس)، محمد آصف صاحبزادہ (ڈائریکٹر جنرل ماحولیات، MoCC&EC)، اور ڈاکٹر شبانہ سلیم (ڈائریکٹر جنرل صحت، وزارت قومی صحت خدمات) نے کلیدی خطابات کیے۔ مقررین نے صحت اور موسمیاتی خطرات کے بڑھتے ہوئے تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک متحد قومی حکمت عملی کی اہمیت پر زور دیا ڈاکٹر نیلسن عظیم نے کہا کہ پاکستان کو لوگوں، جانوروں اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے “ون ہیلتھ” نقطہ نظر کو ایک تزویراتی اور بین الشعبہ جاتی ردعمل کے طور پر اپنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا: “ہمیں ون ہیلتھ پاکستان ایجنڈے کے لیے اجتماعی عزم کو دوہرانا ہوگا، کیونکہ ہمارے مسائل جڑے ہوئے ہیں، لہٰذا ہمارا ردعمل بھی مربوط ہونا چاہیے محمد آصف صاحبزادہ نے خبردار کیا کہ آلودگی، موسمیاتی تبدیلی اور حیاتیاتی تنوع کے زوال کے اثرات سے زونوٹک بیماریوں اور اینٹی مائیکروبیئل مزاحمت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور ادارہ جاتی کمزوری اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو محدود کر سکتی ہے۔ انہوں نے ون ہیلتھ فریم ورک کو حکومتی سطح پر ادارہ جاتی بنانے، سخت پالیسی عملدرآمد، تربیت اور کمیونٹی انگیجمنٹ کی ضرورت پر زور دیا۔

ڈاکٹر طارق محمود علی نے کہا کہ انسانی، حیوانی اور ماحولیاتی صحت کو الگ الگ دیکھنے کا وقت گزر چکا ہے، اب مشترکہ پلیٹ فارم سے مربوط کوششیں وقت کی ضرورت ہیں محمد عظیم کھوسو (ڈائریکٹر اربن افیئرز، MoCC&EC) نے تجویز دی کہ وفاقی و صوبائی سطح پر “ون ہیلتھ” یونٹس قائم کیے جائیں جنہیں ADP، PSDP یا بین الاقوامی فنڈز کے ذریعے مالی اعانت فراہم کی جائے تاکہ وہ ماحولیاتی اثرات سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بروقت نگرانی اور اطلاع دہی میں مدد دیں محمد سلیم شیخ (ڈپٹی ڈائریکٹر، MoCC&EC) نے ون ہیلتھ ایجنڈے کے فروغ کے لیے مؤثر حکمت عملی، اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور بامعنی آگاہی مہم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب ایڈووکیسی کے لیے SMART اہداف، مربوط پیغام رسانی اور سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کا مؤثر استعمال ضروری ہے تکنیکی سیشن میں بین الاقوامی اداروں جیسے WHO، FAO، ADB، ورلڈ بینک اور WWF-Pakistan نے پاکستان میں ون ہیلتھ ایجنڈے کو مؤثر بنانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کیں۔

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مربوط سرویلنس نظام، ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق صحت کی منصوبہ بندی، اور بین الشعبہ جاتی تعاون کے ذریعے پاکستان کے صحت مند اور پائیدار مستقبل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ ون ہیلتھ پاکستان کو قومی ترجیح بنانے کا اعادہ کیا گیا۔