یونیورسٹی ٹاؤن متاثرین کا عدالت میں RDA کے مؤقف کی تبدیلی پر شدید ردعمل، لینڈ مافیا کو ریلیف قرار دے دیا، اعلیٰ سطحی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ

راولپنڈی (امتثال )یونیورسٹی ٹاؤن راولپنڈی کے متاثرین نے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں زیر سماعت ضمانت قبل از گرفتاری کیس میں راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (RDA) کے مؤقف کی تبدیلی کو لینڈ مافیا کی سرپرستی اور انصاف کے منہ پر طمانچہ قرار دیا سماعت میں RDA نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کو گرفتار نہ کیا جائے بلکہ گرفتاری ملتوی کر دی جائے، جبکہ انویسٹی گیشن آفیسر نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ وہ ملزمان کو گرفتار نہیں کرنا چاہتا۔ متاثرین نے اس رویے کو RDA اور پولیس کی ملی بھگت اور قانون شکنی کی بدترین مثال قرار دیا۔

یونیورسٹی ٹاؤن راولپنڈی کے متاثرین نے کہا کہ ہزاروں متاثرین کو جعلی ماسٹر پلان، جعلی نقشے اور جعلسازی پر مبنی دستاویزات کے ذریعے پلاٹس فروخت کیے گئے غیر منظور شدہ یوٹیلیٹی چارجز، ایل پی جی کنیکشن، اور اضافی ڈیولپمنٹ چارجز کی مد میں کروڑوں روپے بٹورے گئے، جن کی کوئی منظوری RDA سے حاصل نہیں کی گئی سروس ڈیزائن کی باقاعدہ منظوری کے بغیر سب اسٹینڈرڈ ڈیولپمنٹ کروائی گئی، جس پر RDA نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔ MP&TE اور لینڈ برانچ کے افسران پر الزامات ہیں کہ انہوں نے مالی فوائد کے عوض غیر قانونی سرگرمیوں کی معاونت کی اور کاروائی سے گریز کیا یونیورسٹی ٹاؤن کو غلط NOC جاری کی گئی، جبکہ مارٹگیج شدہ 20% پلاٹس بھی غیر قانونی طور پر فروخت کیے جا چکے ہیں اور RDA کے پاس کوئی بینک گارنٹی موجود نہیں۔

متاثرین نے کہا کہ حیران کن طور پر، 18 مارچ 2025 کو درج کی گئی FIR نمبر 597/25 (دفعہ 420، 468، 471 کے تحت) کے باوجود، جب عدالت نے 7 مئی کو مرکزی ملزمان عبدالعزیز خان (CEO) اور جمیل احمد (ڈائریکٹر ایڈمن) کی ضمانت منسوخ کی تو پولیس نے بجائے گرفتار کرنے کے ملزمان کو فرار ہونے میں بھر پور مدد کی،RDA نے عدالت میں اپنا مؤقف ہی بدل دیا۔ بعد ازاں 30 جولائی 2025 کی سماعت میں RDA نے عدالت عالیہ میں اپنا موقف ہی بدل لیا اور لینڈ مافیا کو ریلیف دلوا کر متاثرین کو مزید مایوس کر دیا سیکریٹری HUD & PHE کا کردار بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے 16 جون 2025 کو سیکریٹری ہاوسنگ نے متاثرین کو یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ٹاون انتظامیہ کو ‘ اگر متاثرین کے مسائل حل نہ کئے تو وہ انہیں بندے کا پتر بنا دیں گے’ یہ بیان محض ایک دلاسہ ہی ثابت ہوا۔

متاثرین نے سیکریٹری ہاؤسنگ، اربن ڈویلپمنٹ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (HUD & PHE) کی مجرمانہ خاموشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ صوبائی سطح پر ہاؤسنگ سیکٹر کی نگرانی کا ذمہ دار یہ ادارہ اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برت رہا ہےمتاثرین نے مزید کہا کہ RDA، پولیس، MP&TE اور لینڈ افسران کے کردار کی آزادانہ جوڈیشل انکوائری کروائی جائےسیکریٹری HUD & PHE کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی غفلت پر اعلیٰ سطحی کارروائی کی جائے متاثرین کو ان کے قانونی پلاٹس کا فوری قبضہ، ریلیف اور غیر قانونی چارجز کی واپسی یقینی بنائی جائے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ ہزاروں خاندانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے یونیورسٹی ٹاؤن کے متاثرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور چیئرمین نیب سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لے کر انصاف کی فراہمی اور کرپشن کے خاتمے کو یقینی بنائیں.