امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں، سمندری حیات کا تحفظ بھی ضروری ہے.وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے بحری امور، محمد جنید انور چوہدری نے اتوار کے روز عالمی یوم امن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ حقیقی امن صرف تنازعات کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ اس میں قدرتی ماحول، خاص طور پر سمندروں اور وہاں بسنے والی انواع کا تحفظ بھی شامل ہے انہوں نے کہا کہ “امن کا مطلب ہے فطرت کے ساتھ توازن میں زندگی گزارنا”، اور یہ کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی صحت براہِ راست عوام کی روزی روٹی سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ “اگر ہمارے سمندر صحت مند نہیں ہوں گے تو نہ صرف سمندری جانور بلکہ ساحلی کمیونٹیز بھی متاثر ہوں گی جنید چوہدری نے خطرے سے دوچار کچھوؤں، زیادہ شکار کا شکار شارک مچھلیوں، چُرنا آئی لینڈ کے نازک کورل ریفز اور ساحلی مینگرووز کو درپیش خطرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کچھوے شکار، آلودگی اور ان کے قدرتی مساکن کی تباہی کے سبب خطرے میں ہیں، جبکہ شارک مچھلیاں، بشمول وہیل شارک، سمندری ماحولیاتی نظام کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے اہم ہیں اور ان کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورل ریفز نہ صرف سمندری حیاتیاتی تنوع کا مرکز ہیں بلکہ طوفانوں کے دوران ساحلی علاقوں کی قدرتی ڈھال بھی بنتے ہیں۔ مینگرووز کاربن ذخیرہ کرنے، مچھلیوں کے ذخائر برقرار رکھنے اور ساحلی علاقوں کو سمندری کٹاؤ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں وفاقی وزیر نے حکومت کی مختلف اقدامات کا ذکر کیا، جن میں سمندری تحفظ کے علاقوں میں اضافہ، مینگرووز کی بحالی، مچھلی کے شکار کے قوانین کو سخت کرنا، اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی شامل ہے۔ انہوں نے عوام، پالیسی سازوں اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ پلاسٹک کے فضلے کو کم کریں اور تحفظ کے اقدامات کی حمایت کریں انہوں نے کہا، “سمندر کاربن جذب کرتے ہیں، درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرتے ہیں۔ سمندری زندگی کا تحفظ دراصل ہمارے مستقبل کا تحفظ ہے وزیر نے عالمی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کے درمیان امن کے ساتھ ساتھ زمین کے قدرتی نظاموں کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے حکومت کی سمندری ورثے سے وابستگی کو دہراتے ہوئے کہا:ایک پُرامن دنیا وہ ہے جہاں شارک آزادانہ تیرتی ہیں، کچھوے محفوظ طریقے سے انڈے دیتے ہیں، کورل ریفز چمکتے ہیں، مینگرووز مضبوطی سے کھڑے ہوتے ہیں، اور ہمارے سمندر آنے والی نسلوں کی کفالت جاری رکھتے ہیں۔”