صوبائی وزیر اقلیتی امور کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے. سابق وفاقی وزیر جے سالک

اسلام آبا د(سٹاف رپورٹر)ورلڈ مینارٹیز الائنس کے کنونیئر اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نےکہا ہے کہ ہڑپہ میں مسیحیوں پر ہونے والے ظلم اور پولیس گردی پرپنجاب کے وزیر اقلیتی امور کو فوری طور پر عہدے سے برطرف کیا جائے، وزارت اقلیتی امور کو صوبوں سے واپس لیکرمرکزکے تحت بحال کیا جائے ، ملک کے محافظ مظلوم طبقے کا ساتھ دیں،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہڑپہ واقعے پر نوٹس نہ لیا تو اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے، سابق وفاقی وزیر جے سالک نے ان خیالات کا اظہار اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا،جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ ہڑپہ میں مسیحی خاندانوں کیخلاف پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی پر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور وزیر اقلیتی امور پنجاب کی جانب سے مجرمانہ خاموشی پر ملک بھر کے مسیحیوں میں شدید غم و غصہ اوراشتعال پایا جاتا ہے.

جے سالک نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز سے متعلقہ وزیر کو وزارت کے عہدے سے برطرف کرنے اور کسی دوسرے اہل شخص کو وزیر مقرر کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئےخبردار کیا کہ اگر انہوں نے متعلقہ وزیر کو وزارت سے برطرف نہ کیا تو انہیں اسکی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کئی بار ابابیلوں سے بھی باز کا شکار کروا دیتا ہے، جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اقلیتوں کو پاکستان کی مقدس امانت قرار دیا تھا مگر حکمرانوں نے اقلیتی امور کی وزارت کو مرکز سے صوبوں میں منتقل کرکے قائد کے افکار سے روگردانی کی ہے، جے سالک نے اقلیتی امور کی وزارت کو فوری طور پر صوبوں سے واپس لیکر وفاق کے تحت بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا.

جے سالک نے ملک کے محافظوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم طبقے کا ساتھ دیںاورظالموں کی بیخ کنی کریں،سابق وفاقی وزیر نے ہڑپہ وقعے پر اعلیٰ حکام کیساتھ مذاکرات کرنے اور مل بیٹھ کر معاملے کو حل کرنے کی بھی آفر کی، ملک بھر کے شیعہ سنی علماء کرام نے بھی ہڑپہ واقعے پر جے سالک کو اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ہے،ہڑپہ سے واپس اسلام آباد پہنچنے سینکڑوں لوگوں نے جے سالک کا والہانہ استقبال کیا اور انہیں پھولوں کے ہار پہنائے۔