راولپنڈی(سٹاف رپورٹر) وفاقی تعلیمی بورڈ اسلام آباد کے سابق چئیرمین و سپیکر ہمدرد شوریٰ پروفیسر نیاز عرفان اور دیگر دانشوروں نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نوجوانوں کے لیے راہیں فراہم کریں جبکہ نوجوانوں کو بھی چاہیے وہ ملک کے روشن مستقبل کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہوئے تعلیم،معیشت،سماجی ترقی اور قومی یکجہتی میں اپنا کردار ادا کریں اگر نوجوان قائد اعظم ؒ،علامہ اقبال ؒاور شہید حکیم محمد سعیدؒ کے افکار اور خواب کو عملی شکل دیں تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا ملک سے اقربا ء پروری اور سفارشی کلچر کو ختم کرنا ہو گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہمدرد شوریٰ کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا موضوع”پاکستان کی نوجوان آبادی .
مواقع،چیلنجز اور قومی قوت میں تبدیل کرنے کے راستے“ تھاقومی صدر ہمدرد فاؤنڈیشن سعدیہ راشد نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے نوجوان علم،ٹیکنالوجی،تخلیقی صلاحیتوں،جذبے اور بے پناہ توانائی سے مالامال ہے لیکن انہیں ایسے مواقع،رہنمائی اور سازگار ماحول کی ضرورت ہے جو ان کی قابلیت کو نکھارنے کے علاوہ قومی ترقی کا حصہ بنا سکے تعلیم کا معیار،روزگار کے مواقع،ہنر مندی،معاشی عدم استحکام،ذہنی دباؤ او رسماجی مسائل یہ سب ایسے چیلنجز ہیں جن کا نوجوان روزانہ سامنا کرتے ہیں ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونا صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ذمے داری ہے.
اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت دیدے تو یہ آبادی شماریاتی حقیقت نہیں بلکہ معاشی ترقی،سماجی استحکام اور قومی تعمیر کی مضبوط بنیاد بن جائے گی دیگر دانشوروں میں پروفیسر زاہد علی قریشی،حکیم بشیر بھیروی،طارق شاہین،سلمیٰ قاصر،پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد،نعیم اکرم قریشی،انجینئر مظفر اقبال او رامتیاز حیدر شامل تھے ان دانشورں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد بیروزگاری کا شکار ہے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں سازگار ماحول فراہم کریں تا کہ نوجوان ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

