راولپنڈی (سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات کرنے والے افراد ان کے ساتھ نہیں اور نہ ہی انہیں ان کا قریبی ساتھی کہا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ مریم نواز کی جانب سے توشہ خانہ سے حاصل کی گئی گاڑی کے معاملے پر آج تک کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا، جو قانون کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملک کی اکثریتی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ نے گزشتہ برس 22 نومبر کو پُرامن احتجاج کی اپیل کی تھی اور ان پر الزام صرف یہ ہے کہ انہوں نے یہ پیغام عوام تک پہنچایا۔
انہوں نے کہاکہ ان کے خلاف پولیس اہلکاروں کو بطور گواہ پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جس سے انصاف کا نظام سوالیہ نشان بن چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بات کرتے رہے ہیں، لیکن جو جج رول آف لا کی بات کرے، اسے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے علیمہ خان نے توشہ خانہ کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ الزام صرف یہ ہے کہ ایک ہار کی قیمت کم لگوائی گئی جس پر 17 سال قید کی سزا دی گئی، جبکہ دیگر معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حالیہ پیغام میں کہا ہے کہ وہ قوم کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں وہ گزشتہ اڑھائی سال سے جیل میں ہیں، انہوں نے ہمیشہ مقدمات کا سامنا کرنے کی بات کی اور ملک چھوڑنے کی پیشکش کو بھی مسترد کیا ان کا کہنا تھا کہ غلط فیصلے دینے والے بعض ججز ملک سے باہر چلے جاتے ہیں، ان کے نام یاد رکھے جائیں گے، انہوں نے الزام عائد کیاکہ انسداد دہشتگردی عدالت کے ججز بھی کسی منصوبے کے تحت کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
علیمہ خان نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کا پیغام میڈیا تک پہنچایا تھا اور اس حوالے سے صحافیوں کو گواہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، بانی کو جیل میں 11 کتابیں بھجوائی گئی تھیں، جن میں سے 9 انہیں موصول ہو چکی ہیں علیمہ خان نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اسٹریٹ موومنٹ سے متعلق خیبرپختونخوا کی قیادت کو ہدایات جاری کی ہیں۔

