ای سی سی کی منظوری کے بعد پاکستان میں 5جی ٹیکنالوجی جلد متعارف، 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کی نیلامی کے اقدامات شروع

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )نے سپیکٹرم آکشن کمیٹی کی سفارشات کو منظور کر لیا ہے، ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کو آگے بڑھا رہے ہیں، انٹرنیٹ کی سپیڈ کے ساتھ اس کی رسائی بھی بڑھائیں گے، ٹیلی کام سیکٹر سمیت دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت یقینی بنائی جائے گی، کوشش ہے کہ فروری 2026ء کے پہلے ہفتے تک 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم کی آکشن مکمل کر لیں، پاکستان میں جلد فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کر ائی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ ای سی سی اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ اس کو اب وفاقی کابینہ میں لے جایا جائے گا، ہماری کوشش ہے کہ جنوری کے آخر یا فروری کے پہلے ہفتے میں سپیکٹرم آکشن کو مکمل کر لیں گے، پاکستان میں انٹرنیٹ سروسز عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں،اس کی بنیادی وجہ سپیکٹرم کی موجودگی نہ ہونا ہے، اس وقت پاکستان کی 24 کروڑ آبادی 274 میگاہرٹز کے سپیکٹرم پر آپریٹ کر رہی ہے، اس کو بہتر بنانے کے لئے سپیکٹرم آکشن کیا جا رہا ہے، ہماری کوشش ہے کہ 600 میگاہرٹز سپیکٹرم آکشن کیا جا رہا ہے، یہ ماضی کی سب سے بڑی سپیکٹرم آکشن ہے، اس سے تھری جی اور فور جی سروسز بہتر ہو جائیں گی اور فائیو جی سروس بھی متعارف ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے یقینی بنائے گی کہ آئندہ چار سے چھ ماہ میں فائیو جی کے تمام عمل کو مکمل کر لیا جائے، آئندہ چار سے چھ ماہ میں سروسز کے معیار میں بہتری نظر آئے گی، فائیو جی جلد پاکستان میں متعارف ہو جائے گا انہوں نے کہا کہ تمام ڈیجیٹلائزیشن کی بنیاد انٹرنیٹ ہے، آئندہ پانچ سال تک 100 ایم بی پی ایس کنکٹیویٹی ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں پانچ فیصد فائبرائزیشن ہے، اس کو بڑھایا جائے گا تا کہ انٹرنیٹ کی سپیڈ بہتر ہو سکے گی۔