اسلام آباد (کرائم رپورٹر )ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں اردلی روم کا انعقاد کیا گیا جس میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی، بدعنوانی، غفلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ملوث افسران و اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی اردلی روم کے دوران 10 افسران و اہلکاروں کو مختلف سزائیں سنائی گئیں جبکہ ڈیوٹی اور تربیتی کورس سے غیر حاضری پر 6 اہلکاروں کو وارننگ جاری کی گئی۔ انسپکٹر محمد اقبال کو کانسٹیبل ڈرائیور کی بھرتی کے دوران ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق نہ کرنے پر ایک سال کے لیے سب انسپکٹر کے عہدے پر تنزلی دے دی گئی۔
ٹیکنیکل اسسٹنٹ نازش اکمل کو غیر حاضری پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جبکہ انسپکٹر اسد افتخار اعوان کو ناقص تفتیش پر دو سال کے لیے دو پے اسکیل کم کرنے کی سزا سنائی گئی۔ کانسٹیبل کامران سلیم کو ایک سال کے لیے ترقی روکنے، جبکہ ہیڈ کانسٹیبل محمد علی کو ڈیوٹی سے غیر حاضری پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا کانسٹیبل محمد حمزہ کو نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس ٹریننگ کالج شیخوپورہ میں تربیت سے غیر حاضری پر تین سال کے لیے انکریمنٹ روکنے اور کانسٹیبل محمد وقار کو ایک سال کے لیے انکریمنٹ روکنے کی سزا دی گئی۔
اس کے علاوہ ہیڈ کانسٹیبل محمد عدنان، اے ایس آئی عاصم گلزار، ہیڈ کانسٹیبل شعیب محمد خان، کانسٹیبل اندر کمار، کانسٹیبل روبیہ ساجد اور کانسٹیبل طاہر حسین کو وارننگ جاری کی گئی ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار راجہ نے کہا کہ محکمانہ احتساب کا مقصد قانونی اور پیشہ ورانہ معیارات پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن، غفلت اور ناقص تفتیش میں ملوث اہلکاروں کی ایف آئی اے میں کوئی جگہ نہیں، اور ادارے کو کالی بھیڑوں سے پاک کرنے کے لیے سخت احتسابی عمل جاری ہے

