سوات (بیورو رپورٹ)سوات سرینا ہوٹل کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پریس کانفرنس اور احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور سرینا ہوٹل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ہوٹل کو محکمہ ٹورازم کے حوالے کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 100 ملازمین کو یکدم بے روزگار کر دیا گیا، کمپنی نے ملازمین کو فارغ کر کے رخصت کر دیا ہے ۔جس سے درجنوں خاندانوں کے معاشی حالات شدید خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سوات سرینا ہوٹل ایمپلائز یونین کے عہدیداروں جنرل سیکرٹری اکرام اللہ، چیئرمین سجاد علی، صدر بہروز، نائب صدر کامران اور فنانس سیکرٹری خضر حیات نے کہا کہ متاثرہ ملازمین طویل عرصے سے اس ادارے سے وابستہ رہے ہیں اور اپنی زندگی کا قیمتی حصہ سرینا ہوٹل کو دیا ہے.
اب اچانک برطرفی کے بعد ہمارے لیے کسی اور شعبے میں روزگار حاصل کرنا نہایت مشکل ہو چکا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرینا انتظامیہ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان ملازمین کو سرینا گروپ کے دیگر ہوٹلوں میں ایڈجسٹ کرے یا پھر تمام متاثرہ ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کی طرز پر مکمل مالی مراعات دی جائیں، مقررین نے کہا کہ متاثرہ ملازمین میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی مدتِ ملازمت 15 سال سے کچھ کم ہے لیکن انہوں نے بھی اپنی عملی زندگی کے بہترین سال اس ادارے کو دیے ہیں .
لہٰذا انہیں بھی مکمل پنشن اور دیگر مراعات دی جائیں تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں، انہوں نے کہا کہ ہم فاقہ کشی اور بے روزگاری کے دہانے پر کھڑے ہیں اور اگر ہمارے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو ہم سرینا کے مرکزی دفاتر کے سامنے احتجاج کرنے اور عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے، تاہم ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ افہام و تفہیم سے حل ہو، ملازمین نے صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا نوٹس لے اور ہمیں بے روزگاری اور معاشی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرے.
مقررین کا کہنا تھا کہ سوات جیسے سیاحتی علاقے میں تجربہ کار ہوٹل اسٹاف کو اس طرح بے روزگار کرنا نہ صرف ملازمین بلکہ پورے سیاحتی شعبے کے لیے نقصان دہ ہے اور حکومت کو اس حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔

