اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)وفاقی دارلحکومت کےنیو ایئرپورٹ کے قریب فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کا اربوں روپے کا 2019 میں شروع ہونے والا اسکائی لین اپارٹمنٹ ہائوسنگ پراجیکٹ کی مد میں ممبران سے 7ارب 84 کروڑ سے زائد کی رقم لینے کے باوجود 6سالوں میں بھی مکمل نہ ہوسکا پراجیکٹ ڈائریکٹر کروڑوں روپے کی کرپشن میں ملوث نکلا ایف آئی اے بھی گرفتار نہ کرسکی‘ الاٹی پریشان۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ اتھارٹی نے 2019 میں سکائی لین اپارٹمنٹ کے نام سے اسلام آباد نیوایئرپورٹ پر پراجیکٹ شروع کیا اس پراجیکٹ میں الاٹی‘ ممبران نے مجموعی طور پر 7 ارب 84 کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نے اس پراجیکٹ میں 7ارب 84 کروڑ خرچ کرڈالے لیکن ابھی تک اس پراجیکٹ کا بیس فیصد کام بھی مکمل نہ کیا جاسکا۔
اس پراجیکٹ میں 3945 اپارٹمنٹ کی تعمیر تھی منصوبہ 225کنال زمین پر تین کیٹگری میں شروع ہوا اے ٹائپ اپارٹمنٹ 774 ب ی 1076 جبکہ سی میں 1701 اپارٹمنٹ بنائے جانے تھے۔ اس منصوبے کو سابق وزیراعظم نے 2019 میں شروع کروایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پراجیکٹ ڈائریکٹر شیخ غلام فرید جو کہ ایک پرائیویٹ آفیسر تھا سمیت شعبہ انجینئرنگ کے افسران نے مبینہ ملی بھگت کرکے اربوں روپے کی بظاہر رقم خرچ کی ممبران نے 2025 تک سات ارب چوراسی کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی تھی لیکن پراجیکٹ ڈائریکٹر کے خلاف ایف آئی اے نے مقدمہ درج کیا تھا۔ لیکن ابھی تک معاملہ التواء کا شکار ہے جو کہ ایف جی ای ایچ اے افسران کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

