کراچی میں بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس مختلف مذہبی رہنماؤں کا مل کر امن و آشتی کا پیغام

کراچی (بیورو رپورٹ )ہولی ٹرینٹی کیتھیڈرل چرچ، کراچی میں “مذہبی رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے حکمت عملی” کے موضوع پر بین۔المذاہب ہم آہنگی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کی صدارت وزیر مملکت مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے کی کانفرنس میں مسلم، مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور بہائی کمیونٹی کے رہنماؤں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اور سماجی کارکنوں نے بھی شرکت کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ ہماری معاشرے کو درپیش چیلنجز کا حل ہم آہنگی اور باہمی احترام میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذہبی ہم آہنگی کی تعلیمات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل میں صبر و برداشت اور رواداری کا جذبہ پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مختلف مذاہب کے لوگوں کا وطن ہے اور کوئی بھی مذہب نفرت یا دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا۔ پاکستان امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پرچم بلند رکھے گا۔ دنیا میں مذہب کے نام پر تفریق، تشدد اور منافرت کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ بھارت میں حالیہ کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کو جس طرح ہراساں اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ باعث شرم تھا۔ مودی کے بھارت میں مسلم، سکھ، مسیحی اور شیڈول کاسٹ ہندو مذہبی بنیاد پر ہراسانی کا شکار ہیں۔ دوسری جانب ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر نے غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی تہواروں میں شریک ہو کر ان کی بہترین حوصلہ افزائی اور قدر دانی کی۔ مفتی محمد یوسف قاسوری نے کہا کہ ہماری مذہبی تعلیمات میں ہم آہنگی اور باہمی احترام کی بڑی اہمیت ہے۔ علامہ ڈاکٹر شبیر حسین میثمی نے کہا کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان ہم آہنگی سے ہی معاشرے میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

ایشا پٹیل نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے ہی پاکستان کو ایک بہتر معاشرہ بنایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ تعلیم اور سمجھ بوجھ سے ہی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکتا ہے کانفرنس میں کراچی کے بشپ فریڈرک جان نے ہم آہنگی کی کوششوں میں حکومت اقدامات کو سراہتے ہوئے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ حاضرین کی چرچ آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسی تقاریب دیگر مذہبی مقامات پر بھی منعقد ہونی چاہیں۔ مفتى ابو ہریرہ محی الدین، ڈاکٹر شام سندر اڈوانی اور دیگر علماء نے بھی خطاب کیے اور اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات میں ہم آہنگی، رواداری اور بقائے باہمی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ کانفرنس کا اختتام امن و آشتی اور باہمی تعاون کے عزم کے ساتھ ہوا.