اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز پر 5 فیصد محصول کے خلاف کیس، فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ( سپیشل رپورٹر) اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز پر پانچ فیصد محصول کے خلاف کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ میں ٹی وی چینلز سے اشتہارات کی مد میں سالانہ آمدن کا پانچ فیصد بطور محصول وصول کرنے کے پیمرا نوٹسز کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کی۔دورانِ سماعت اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے تحریری دلائل جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر تحریری دلائل جمع کرائے جائیں۔

عدالت میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عمران فاروق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ عدالت نے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور مختلف ٹی وی چینلز کی جانب سے دائر درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔درخواست گزار ٹی وی چینلز میں جیو نیوز، اے آر وائی نیوز، دنیا نیوز، ایکسپریس نیوز، سما نیوز، بول نیوز، آج نیوز اور ڈان نیوز سمیت دیگر نشریاتی ادارے شامل ہیں، جنہوں نے پیمرا کے نوٹسز کو غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس سے قبل دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، تاہم اٹارنی جنرل کو معاونت کا نوٹس جاری نہ ہونے کے باعث کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔

واضح رہے کہ پی بی اے اور متعلقہ ٹی وی چینلز نے 2022 میں پیمرا کی جانب سے جاری ان نوٹسز کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جن میں اشتہارات سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن پر پانچ فیصد محصول ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان نوٹسز کے خلاف پہلے ہی حکمِ امتناع جاری کر رکھا ہے، جو تاحال برقرار ہے.