ریلوے کی کارکردگی پر کمیٹی میں شدید تحفظات، 63 فیصد انجنوں کی عمر 20 سال مکمل

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں ریلوے کی کارکردگی اور انتظامی امور پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت رکن اسمبلی رمیش لال نے کی جبکہ وزیر ریلوے حنیف عباسی کی غیر موجودگی پر کمیٹی ارکان نے شدید اعتراض کیا کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ وزیر ریلوے کی شرکت میں عدم تسلسل کمیٹی کی سنجیدگی کو متاثر کر رہا ہے۔ رکن کمیٹی صادق علی میمن نے کہا کہ وزیر کبھی کبھار کمیٹی میں آئے لیکن اس کے بعد ملاقاتیں نہیں ہوئیں۔ احمد سلیم صدیقی نے کہا کہ وزیر نے ملاقات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کمیٹی اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اجلاس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ 2025-26 کے پہلے چھ ماہ میں ماہانہ اوسط مسافر لوکوموٹیوز کے فیل ہونے کی تعداد 29 ہو گئی، جبکہ پچھلے مالی سال میں یہ تعداد 21 تھی۔ کمیٹی نے بتایا کہ ریلوے کے 63 فیصد انجن اپنی 20 سالہ عمر مکمل کر چکے ہیں، اور ریلوے کے کل 439 لوکوموٹیوز میں سے 275 لوکوموٹیوز اپنی لائف مکمل کر چکے ہیں ارکان نے ٹرینوں کی تاخیر، واش رومز میں صفائی نہ ہونے اور پانی کی عدم دستیابی جیسے معاملات بھی اٹھائے۔ رکن کمیٹی وسیم قادر نے شہری کی طرف سے ٹرین کی تاخیر کی ویڈیو بھی کمیٹی میں پیش کی۔ رمیش لال نے کہا کہ اگر پالیسی صحیح ہو تو حکومت قرضہ بھی دے سکتی ہے، لیکن موجودہ کوتاہیوں اور مجبوریوں کی وجہ واضح نہیں۔

کمیٹی نے وزیر ریلوے، سی ای او اور آئی جی ریلوے کی شرکت کو آئندہ اجلاس میں یقینی بنانے کی سفارش بھی کی۔