اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن اور آئی ٹی ڈویژن نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ اور اس کے تعلیمی نظام میں موثر استعمال کے لئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار مزید تیز کر دی ہے۔
اسی سلسلے میں ایچ ای سی کے ریسرچ اینڈ انوویشن ڈویژن اور آئی ٹی ڈویژن نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام، میٹا (Meta) اور ایٹم کیمپ (atomcamp) کے اشتراک سے AI-Ready Faculty Program کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک بھر کی جامعات میں تدریسی عملے کی مہارتوں میں اضافہ اور تدریس کے معیار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
اس اقدام کے تحت ایٹم کیمپ نے پاکستان بھر میں فیکلٹی ممبران کو مصنوعی ذہانت سے متعلق جدید تربیت فراہم کی جبکہ ایچ ای سی نے اس پروگرام کے لئے ضروری معاونت اور شراکت داری فراہم کی۔ اس کامیاب اشتراک کے نتیجے میں اب تک 300 سے زائد فیکلٹی ممبران کو اے آئی سے متعلق جدید تربیت فراہم کی جا چکی ہے جس سے نہ صرف اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہوا بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کی بنیاد بھی مضبوط ہوئی ہے۔
اس موقع پر ایچ ای سی نے وزارت آئی ٹی، میٹا اور ایٹم کیمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے اشتراکی اقدامات پاکستان میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور اختراع کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ایچ ای سی نے کہا کہ مستقبل میں بھی مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے میدان میں ایسے مزید پروگرام متعارف کروائے جائیں گے تاکہ پاکستان کی جامعات عالمی معیار کے مطابق ترقی کر سکیں۔

