کراچی ( بیورو رپورٹ ، ویب ڈیسک) سندھ کے صوبائی دارلحکومت کراچی میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 23 افراد جان سے گئے 30 سے زائد افراد زخمی جبکہ 62 افراد کا تا حال لا پتہ ہیں ریسکیو اداراں نے 33 گھنٹوں بعد قابو پا لیا ریسکیو اداراں کی ، تہہ خانے تک رسائی ہو گئی، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے مطابق گل پلازہ سے 23 لاشیں مل چکی ہیں، 22 افراد معمولی زخمی ہوئے تھے، گھروں کو چلے گئے سا نحہ میں جاں بحق افراد کے ورثاء کو ایک ایک کروڑ روپے ادا کیے جائیں گے،گل پلازہ کی عمارت سے آوازیں آنے لگی ہیں، ریسکیو اہلکاروں نے شہریوں کو ہٹانے کے لیے اعلانات شروع کر دیے، پولیس طلب کر لی گئی، عمارت گرنے کا خدشہ شدید ہو گیا۔
گل پلازہ سے ملبے کو ہٹاکرسرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، شہریوں کی جانب سے اپنے پیاروں کی انتظامیہ کو دی جانے والی اطلاعات کے مطابق گل پلازہ سانحہ میں تاحال 73لوگ لاپتہ ہیں،ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ گل پلازہ میں لگی آگ پر مکمل قابو پا لیا گیا ہے، کولنگ کا عمل جاری ہے، تہہ خانے تک رسائی ہو گئی ہے، ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا،کراچی پولیس چیف آزاد خان نے واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں تخریب کاری کے شواہد نہیں ملے، انتظامیہ نے ہمیں رپورٹ دی اوراس میں کسی کی غفلت پائی گئی تو مقدمے کا اندراج بھی ہوگا، ریسکیو آپریشن احتیاط کے ساتھ کیا جارہا ہے،اختتام کا ٹائم فریم نہیں دیاجاسکتا،چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے.
محدود پیمانے پر سرچ آپریشن بھی کیا جا رہا ہے، ہفتے کی رات کو لگنے والی آگ 33 گھنٹے بھڑکتی رہی،قبل ازیں گل پلازہ کی عقبی سائیڈ پر فائر بریگیڈ کی تمام گاڑیوں نے کام بند کر دیا، کیونکہ آگ بجھانے کے عمل کے دوران عمارت سے آوازیں آنا شروع ہو گئی ہیں، عمارت مکمل طور پر خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے، اسی لیے فائر فائٹنگ روک دی گئی ہے، صرف ملبے کو ہٹایا جا رہا ہے،ریسکیو حکام نے بتایا کہ آگ پر 90 فیصد قابو پایا گیا، عمارت کی حالت مخدوش ہونے پر کام روک دیا گیا،، عمارت گرنے کے خدشے پر فائر فائٹنگ روک دی گئی دوسری جانب ،ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا ہے کہ پلازہ سے 11 لاشیں مکمل ملی ہیں جبکہ 3 لاشوں کے اعضا ملے ہیں، ملبے تلے سے رات گئے ایک شخص کی لاش کو چھیپا حکام نے نکال لیا جس کی شناخت تاحال نہ ہو سکی ہے،گل پلازہ کے فائر فائٹنگ اور ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، سندھ رینجرز، کے ایم سی، ریسکیو سندھ سمیت رضا کار بھی شامل رہے.
جنہوں نے انسانی زندگیاں بچانے کے لیے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں،سانحہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے ڈپٹی کمشنر ساوتھ نے30افسران پر مشتمل 6 ٹیمیں بنا دی ہیں، کمشنر کراچی کے احکامات پر تمام ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، کراچی : ہر ٹیم میں سربراہ کے علاوہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار ہوں گے، ٹیم امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرے گی،ڈی سی ساؤتھ کے مطابق ہیلپ ڈیسک پر آنے والے 39 افراد کی لسٹ تیار کی گئی ہے، لاپتہ 31 افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے،36 سالہ فائر فائٹر فرقان علی، جو شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کرتے ہوئے ملبے تلے دب کر شہید ہو گئے۔

