کراچی ( بیورو رپورٹ ، ویب ڈیسک) سندھ کے صوبائی دارلحکومت کراچی میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی آگ کی رپورٹ سامنے آگئی گل پلازہ غیر قانونی نکلا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ ملی بھگت سے 179 غیر قانونی نکلی،،گل پلازہ کا کمپلیکس پلان اور تعمیراتی تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیےانتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق گل پلازہ کی عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی تھی .
1998 میں گل پلازہ کی عمارت میں اضافی منزل تعمیر کی گئی تھی،ایس بی سی اے کے مطابق پارکنگ ایریا میں دکانیں بنیں اور چھت کو پارکنگ میں بدلا گیا، 2003 میں گل پلازہ کی اضافی منزل کو ریگولرائز کیا گیا تھا، گل پلازہ کے مالک نے 14 اپریل 2003 کو کمپلیشن حاصل کیا تھاسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق نقشے کے مطابق گل پلازہ میں بیسمنٹ سمیت تین منزلوں کی اجازت تھی، نقشے کے مطابق 1021 دکانوں کی تعمیر کی اجازت تھی لیکن نقشے کے برخلاف گل پلازہ میں 1200 دکانیں تعمیر کی گئی تھیں،ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ میں 179 دکانیں منظور شدہ نقشے سے زائد تعمیر ہوئیں، گل پلازہ میں راہداری اور باہر نکلنے کی جگہوں پر دکانیں بنائی گئیں۔

