صنعتی ترقی کے لیے مارکیٹوں میں مسابقت کلیدی ضرورت ہے؛ معاشی ماہرین

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) معاشی پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلی کے لیے مارکیٹوں میں کمپٹیشن ناگزیر ہے اور مسابقتی پالیسی کو ترقیاتی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون سمجھا جانا چاہیے،پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے ان خیالات کا اظہار کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان کے افسران سے خطاب کے دوران کیا، انہوں نے کہا کہ مارکیتوں میں مؤثر کمپٹیشن کے بغیر صنعتی پالیسیاں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہیں، جس کے نتیجے میں کمزور پیداواری صلاحیت جنم لیتی ہے۔

کمپٹیشن کمیشن کے لیکچر سیریز کے تحت مارکیٹ میں مسابقت کے فروغ میں صنعت کا کردار کے موضوع پر منعقد سیشن میں پاکستان کے صنعتی ڈھانچے، پیداواری چیلنجز اور کمزور مسابقت کے طویل المدتی معاشی اثرات کا جائزہ لیا گیا،شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کہا کہ مسابقت محض ایک قانونی ضابطہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی پالیسی ہے، انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت میں بہتری، برآمدات کے فروغ اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے مسابقت کے قانون کا مؤثر نفاذ اہم جزو ہے۔

ڈاکٹر ندیم جاوید نے اپنے لیکچر میں پاکستان میں پیداواری صلاحیت میں مستقل کمی اور سیمنٹ، شوگر، کھاد، اسٹیل اور آٹوموبائل جیسے شعبوں کی نشاندہی کی جہاں کمپٹیشن بڑھانے کی ضرورت ہے، انہوں نے وضاحت کی کہ کمزور کمپتیشن، بعض صنعتوں کا ایس آر اوس کے ذریعے ریگولیٹ کرنا اور موجودہ سرکاری ملیکتی کمپنیوں کا تحفظ ملک میں نجی شعبے کی ترقی، جدت اور برآمدات میں رکاوٹ کا باعث ہے، انہوں نے جنوبی کوریا، ویتنام، ترکی اور چلی جیسے ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ منظم کمپٹیشن پالیسی ، تجارت و سرمایہ کاری میں سہولت اور قانون کا مستحکم نفاذ پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے ناگزیر ہے، کمپٹیشن کمیشن کی لیکچر سیریز کا مقصد مسابقتی قانون اور پالیسی پر بامعنی مکالمے کو فروغ دینا، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور پریکٹیشنرز کو یکجا کرنا، اور پاکستان کی معاشی ترقی میں مسابقت کے کردار سے متعلق آگاہی میں اضافہ کرنا ہے۔