آئیسکو میں من پسند تعیناتیاں، کرپشن الزامات کی تحقیقات دبانے کا انکشاف

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی آئیسکو میں دو افسران من پسند سیٹوں پر تعینات جبکہ ایک کو ہٹا دیا ذرائع کے مطابق یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ کئی افسران جن کے خلاف کرپشن کے الزاماات ہیں ان کیخلاف تحقیقات کو نہ صرف بند کر دیا گیا بلکہ وہ اپنی سیٹوں پر براجمان ہیں ،ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد میں تعینات سی ای او چوہدری خالد محمود کو چند افسران نے شیشے میں اتار لیا اور من پسند افسران کی تعینانیاں کروا دی گئیں۔

ایک آفیسر نے سی ای او سے سفارش کی کہ ایکسین روات عظیم زرداری کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے،یاد رہے کہ عظیم زرداری نے ان دنوں چھٹی لے رکھی ہے ، سی ای او نے چھٹی پر گئے ایکسیئن روات کو فوری طور پر ہٹا کر من پسند سفارشی خاتون افسر رابعہ فیصل کو تعینات کر دیا،ستم ظریفی بعد ازاں ان خاتون افسر کوبھی وہاں سے ہٹا کر راولپنڈی روانہ کر دیا گیا جبکہ اب راولپنڈی میں کام کرنیوالے ایکسیئن ساجد کو روات تعینات کردیا گیا گیا ۔

آئیسکو ذرائع نے بتایا کہ راولپنڈی ڈویژن،اسلام آباد میں تعینات کئی آئیسکو افسران ایسے ہیں جن پر کرپشن کے الزامات ہیں ، ان میں ایکسئین بھارہ کہو،راولپنڈی،چکوال،اٹک،جہلم اورایس ڈی او زسمیت کئی شامل ہیں کیخلاف جاری تحقیقات کو بھی دبارکھی ہیں ، ان افسران میں سے اکثریت ایسوں کی ہے جو ایک ہی سیٹ پر عرصہ دراز سے قبضہ جمائے ہوئے ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ تحقیقات کے نرغے میں آنیوالے افسران نے اعلیٰ حکام سے مبینہ طور پر معاملات طے کر لیے ہیں ۔